بے چہرہ عدالتوں کے قیام کیلیے پولیس سفارشات کا جائزہ مکمل

حکومت نے سنگین مقدمات میں گواہان، وکلا، تفتیشی افسران اور ججوں کے تحفظ کیلیے بے چہرہ عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا تھا


Staff Reporter September 01, 2014
بے چہرہ عدالتوں کی تمام کارروائی خفیہ رہے گی، اس قسم کا تجربہ امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں انتہائی کامیاب رہا ہے۔ فوٹو: فائل

دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے مقدمات میں گواہان، وکلا، تفتیشی افسران اور ججوں کے تحفظ کیلیے بے چہرہ عدالتوں (فیس لیس کورٹس) کے جلد قیام کے حوالے سے پولیس نے سفارشات کا جائزہ لے لیا ہے۔

اس حوالے سے مرکزی پولیس دفتر میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج اور سنگین نوعیت کے مقدمات میں گواہان کو تحفظ کی فراہمی کے ضمن میں بے چہرہ عدالتوں (فیس لیس کورٹس) کے قیام کے اعلان کیا تھا اس حوالے سے سندھ پولیس نے سفارشات مکمل کرلی ہیں اجلاس میں بتایا گیا کہ سنگین مقدمات کے گواہان اور ان کے اہلخانہ کی زندگیوں کو ممکنہ لاحق خطرات کے باعث بے چہرہ عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت تھا۔

اس ضمن میں ملزمان کو سزائیں دلوانے اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ججوں ، تفتیشی افسران اور پیروی کرنے والے وکلا کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا بے چہرہ عدالتوں میں ہونے والی تمام تر قانونی کارروائی خفیہ رہے گی، کارروائی کے دوران ملزمان ، مقدمات کے ججز، وکلا، گواہان اور یہاں تک کہ تفتیشی افسران بھی تفصیل سے لاعلم ہوں گے، اس قسم کا تجربہ امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک میں انتہائی کامیاب رہا ہے ایسی عدالتوں سے ملزمان کو سزائیں دلوانے کی شرح میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

اجلاس میں باالخصوص شعبہ تفتیش سے وابستہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کی سفارشات پر غور کیا گیا جس کے تحت منتخب پولیس لائنز میں نئے فیملی فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے ایسے علاقوں جہاں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگز کے واقعات زیادہ ہورہے ہیں پولیس افسران اور اہلکاروں کو انہی علاقوں کی پولیس لائنز میں اہل خانہ سمیت منتقل کیا جائے گا، تمام سفارشات پر آئی جی سندھ نے ضروری احکامات جاری کردیے ہیں۔