بحران کو ناقابل حل نہ بنایا جائے

موجودہ صورت حال کے تناظر میں پاک فوج نے سیاسی قیادت کو درست پیغام دیا ہے ...


Editorial September 02, 2014
موجودہ صورت حال کے تناظر میں پاک فوج نے سیاسی قیادت کو درست پیغام دیا ہے. فوٹو؛فائل

ملک میں جاری سیاسی بحران تاحال جاری ہے۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے والی سیاسی قیادت اور حکومت باہمی طور پر اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں نکال سکیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں جو فریقین میں مصالحت کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں' وہ بھی فی الحال کامیاب نہیں ہو سکیں' یوں سیاسی بحران زیادہ سنگین ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اتوار کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی' موجودہ حالات میں یہ کانفرنس غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں جمہوریت کے لیے پاک فوج کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حالیہ سیاسی بحران اور اس کے تشدد کی طرف رخ مڑنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کے زخمی ہونے اور ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،کانفرنس میں کہا گیا کہ طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید بگاڑ دیگا، کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا کہ مزید وقت ضایع کیے بغیر اور طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے ، کانفرنس میں کہا گیا کہ پاک فوج ریاست کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ قومی امنگوں پر پورا اترنے میں کبھی پیچھے نہیں رہیگی۔ ذرایع کے مطابق اجلاس ساڑھے تین گھنٹے جاری رہا جس میں گزشتہ 24گھنٹوں میں ہونے والے واقعات پر بریفنگ بھی دی گئی۔

موجودہ صورت حال کے تناظر میں پاک فوج نے سیاسی قیادت کو درست پیغام دیا ہے۔ملک کی سیاسی قیادت کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ پاک فوج کو غیر معمولی انداز میں کانفرنس بلا کر پیغام دینا پڑا۔ یہ بات درست ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کیا جانا چاہیے اور تشدد سے گریز کیا جانا چاہیے۔

تشدد کا نتیجہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی صورت میں سامنے آ چکا ہے اسلام آباد میں بھی تشددکسی کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں بنا۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے اور مظاہرہ کرنے والوں اور حکومت دونوں کو حالات کی نزاکت کو محسوس کرنا چاہیے اور تشدد سے گریز کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کی تقریباً ساری سیاسی قیادت اس بحران میں کسی نہ کسی حوالے سے شریک ہے' تحریک انصاف' مسلم لیگ ق' عوامی تحریک' متحدہ مجلس عمل اور سنی اتحاد کونسل اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اس دھرنے کو 2 ہفتے سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اسلام آباد میں مظاہرے اور پولیس تشدد بھی ہو رہا ہے۔

کچھ سیاسی جماعتیں حکومت اور دھرنا دینے والوں کے درمیان رابطہ کار بھی ہیں لیکن کوئی اس بحران کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکابلکہ یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ اسے کیا سمجھا جانا چاہیے' کیا یہ سیاستدانوں کی ناکامی نہیں ہے۔ اگلے روز وزیراعظم میاں نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف کے درمیان بھی ایک طویل ملاقات ہوئی' اس ملاقات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے قیاس آرائیاں اور افواہوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو موجودہ حالات میں درست نہیں ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے کیونکہ اس قسم کی افواہوں اور قیاس آرائیوں سے سیاسی قیادت اور اداروں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہونے کا احتمال ہے' ایسے حالات میں سب کو انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہر بات ناپ تول کر کرنی چاہیے۔

ملک کی سیاسی قیادت چاہے وہ دھرنا دینے والے ہوں یا حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں ہوں' انھیں اس معاملے کو حل کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور اداروں کے تقدس کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ ہم پہلے بھی انھی سطور میں کہہ چکے ہیں کہ بحران جتنا طول ہوتا جائے گا' معاملات اتنے ہی خراب ہوتے چلے جائیں گے۔پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے' ایک راستہ انتشار اور انارکی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا استحکام کی طرف جاتا ہے۔

ایسے مقام پر قوم کی قیادت کو انتہائی دور اندیشی' معاملہ فہمی' تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے'جہاں قربانی اور ایثار کی ضرورت ہو' وہاں انا اور ضد کو آڑے نہیں آنا چاہیے' دنیا میں کوئی ایسا بحران نہیں ہوتا جس کا حل موجود نہ ہو' پاکستان میں جو بحران جاری ہے' اس کا بھی کہیں نہ کہیں حل موجود ہو گا' ضرورت صرف ایثار و قربانی اور معاملہ فہمی کی ہے۔ سیاسی قیادت کا یہ امتحان ہے کہ وہ اس بحران کو کیسے حل کرتی ہے۔اسے ناقابل حل نہ بنائیں۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔