یوکرین کے بگڑتے حالات

یوکرین کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ...


Editorial September 03, 2014
یوکرین کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے. فوٹو: فائل

یوکرین کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تواتر سے ایسی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کے شعلے بھڑکنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرقی یورپ کے ممالک کو ممکنہ روسی جارحیت سے بچانے کے لیے نیٹو نے نئی ریپڈ ری ایکشن فورسز بنانے کی منظوری اور روس کے اس پر شدید ردعمل سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل قطعاً نہیں۔

یہ مشترکہ فوج ایک ڈویژن (دس ہزار فوجیوں) پر مشتمل ہو گی اور اس کا خصوصی وصف انتہائی سرعت کے ساتھ ایکشن کرنا اور مطلوبہ جگہ پر تعیناتی ہے۔ امریکا کے واحد سپر پاور بن جانے اور رشین فیڈریشن کے ٹوٹنے سے جو طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا، وہ اب دوبارہ متوازن ہونے جا رہا ہے، روس کا اس فورس کے قیام پر شدید ردعمل ظاہر کرنا اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ امریکا اور نیٹو کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا چاہتا ہے، روس نے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا اگر نیٹو نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو اس کے جواب میں ایک دفاعی پالیسی تیار کی جائے گی۔ ''تقسیم کرو اور حکومت کرو'' کی پالیسی جو برٹش ایمپائر نے اپنائی تھی، آج بھی امریکا اور نیٹو اتحادی اس پر عمل پیرا ہیں جو ممکنہ جنگ کے خدوخال کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے۔

گو کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو سرد کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے بلکہ ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو صرف بیانات کے ذریعے اپنی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ حقیقت احوال تو یہ ہے کہ مشرقی یوکرین میں روس نواز باغی چڑھائی کر رہے ہیں اور یوکرینی فوج کو بعض مقامات سے پسپائی کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یوکرین میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کے امکانات ہیں ان امکانات کو سیاسی فہم و فراست، تدبر، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تا کہ جنگ کا ایندھن انسان نہ بنیں۔ انسانیت کو امن کی ضرورت ہے۔