آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری

فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بڑی بہتر منصوبہ بندی سے مدد کی


Editorial September 04, 2014
فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بڑی بہتر منصوبہ بندی سے مدد کی . فوٹو؛ فائل

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اس آپریشن کے دوران اب تک 910 دہشت گرد ہلاک اور 114 کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ پاک فوج کے 82 جوان شہید اور 269 زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران فوج نے 88 کلومیٹر طویل سڑک کھجوری' میران شاہ'میر علی' دتہ خیل' بویا' دیگان اور دیگر علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کروا لیا ہے جو ان کے مضبوط ٹھکانے تصور کیے جاتے تھے اور ان علاقوں میں بچے کچھے دہشت گردوں کے خلاف بھی تیزی سے کارروائی جاری ہے، دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائی کرکے ان کے فرار کے تمام راستے محدود کر دیے گئے ہیں۔ عسکری ذرایع کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی لیڈر شپ کی اکثریت افغانستان فرار ہو چکی ہے اور انھیں واپس لانے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والی 27فیکٹریاں' ایک راکٹ اور ایک ایمونیشن فیکٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کے زیر استعمال بڑی تعداد میں اسلحہ گولہ بارود، مواصلاتی آلات، خود کش جیکٹس بنانے والی فیکٹریاں اور دیگر لاجسٹکس تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔ دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ اور مواصلاتی سسٹم درہم برہم کر دیا گیا ہے۔

جس سے ان کی حملہ کرنیکی صلاحیت ختم اور ملک بھر میں دوسری تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ پہلے کی طرح بھرپور قوت کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ فوج کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے لیے اس نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا ابتدائی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے اور وہاں سے شہری آبادی کا انخلا ممکن بنایا گیا جس کے بعد فوج نے زمینی کارروائی کا آغاز کیا اور گھر گھر سرچ آپریشن کیا گیا۔ دہشت گردوں نے ایک عرصے سے وزیرستان کے علاقے پر اپنا قبضہ کیا ہوا تھا انھوں نے اس علاقے میں مضبوط مورچے اور پناہ گاہیں تعمیر کر رکھی تھیں۔ ان کی طاقت اور اس علاقے میں سرگرمیوں کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے وہاں بڑی تعداد میں اسلحہ ساز' بارودی سرنگیں اور خود کش جیکٹس بنانے والی فیکٹریاں تعمیر کر رکھی تھیں۔

وہ ان علاقوں سے نکل کر پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے تھے جس کے باعث ہر طرف خوف و ہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے قبل بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ قبائلی علاقے بہت دشوار گزار ہیں' دہشت گردوں کو ختم کرنا آسان نہیں اور فوج کو ان علاقوں میں بہت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، آپریشن کے ردعمل کی صورت میں دہشت گرد یہاں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل سکتے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پورے سسٹم کو مفلوج کر سکتے ہیں۔دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے لیے یہ پروپیگنڈہ بڑے موثر انداز میں کیا گیا لیکن یہ تمام خدشات غلط ثابت ہوئے اور پروپیگنڈہ مہم دم توڑ گئی جب پاک فوج نے بہتر حکمت عملی کے باعث اس علاقے میں کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں۔

اگرچہ پاک فوج کو اس علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت جدوجہد کرنا اور قربانیاں دینا پڑیں مگر جس انداز میں اسے تیزی سے کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اس سے یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ یہ علاقے جلد ہی دہشت گردوں سے پاک ہو جائیں گے۔پاک فوج نے ثابت کیا کہ جب یقین محکم اور ارادے غیر متزلزل و پختہ ہوں تو مشکل سے مشکل حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو یہ بھی خدشہ تھا کہ آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد اندرون ملک اپنی کارروائیاں تیز اور مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

لہٰذا اس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے حکمت عملی طے کی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کر کے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے کے شبہ میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کے نتیجہ میں ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے مربوط آپریشنز ہوئے تاکہ آپریشن کے کسی بھی ردعمل کا خاتمہ کیا جاسکے، ان کارروائیوں میں 42 دہشت گرد ہلاک اور 114گرفتار ہوئے۔ اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ اگر ملک کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں متحرک ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا جا سکے۔

فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی بڑی بہتر منصوبہ بندی سے مدد کی جس کے باعث آئی ڈی پیز کا مسئلہ بخوبی حل ہو گیا۔علاوہ ازیں اس وقت اندرون ملک جو سیاسی ہیجان انگیز صورت حال پیدا ہو چکی ہے اس سے تمام عوامی حلقے پریشانی میں مبتلا ہیں' ملک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دہشت گردی کے خاتمے اور آپریشن ضرب عضب کو کامیاب بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دیں اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والے اس آپریشن کے متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو جائیں۔اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اندرونی استحکام ہی سرحدوں کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں،سیاسی قیادتوں اور عوام نے متحد ہو کر اس عفریت کا مقابلہ کیا اور اپنے ملک کو پر امن بنادیا۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں تامل ٹائیگرز نے دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے حکومت کے لیے مسائل پیدا کر رکھے تھے ،پھر قوم کے اتحاد نے وہ وقت دکھایا کہ حکومت کامیاب ہوئی اور تامل ٹائیگرز ختم ہوگئے۔آج پر امن سری لنکا جنوبی ایشیا کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ عراق،شام اور لیبیا کے حالات سب کے سامنے ہیں جہاں دہشت گردی اور خانہ جنگی نے ان ممالک کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

پاکستان کی سرحدوں پر بھی صورتحال تسلی بخش نہیں،مشرقی سرحد پر بھارتی افواج گولہ باری اور فائرنگ کر کے مسائل پیدا کر رہی ہیں ،شمال مغربی سرحد پر دہشت گرد افغانستان کے راستے داخل ہو کر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس پریشان کن صورتحال کے تناظر میں اندرون خانہ پیدا ہونے والی ہیجانی سیاسی کیفیت حکومت اور ملک کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔حکومت اور دھرنا دینے والی سیاسی قیادتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کو جلد از جلد اس مشکل صورتحال سے نکالیں، وہ عوام کی فلاح کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کو جاری و ساری ضرور رکھیں مگر کوئی ایسا قدم نے اٹھائیں جس کا راستہ تباہی و بربادی کی طرف جاتا ہو۔