روس اور یوکرین میں جنگ بندی

یوکرین کا بحران حل کرانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں ...


Editorial September 04, 2014
یوکرین کا بحران حل کرانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور ان کے یوکرینی ہم منصب پیٹرو پورو شنکو نے مشرقی یوکرین میں مستقل جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ یوکرین کے صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ روز ولادی میر پیوٹن نے پیٹرو پورو شنکو کو ٹیلی فون کیا جس کے دوران دونوں نے یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونبس میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔

دوسری طرف نیٹو کی طرف سے اس اعلان کے بعد کہ چار ہزار نفری پر مشتمل ایک ایسی سریح الحرکت فوج بنائی جائے گی جو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر یوکرین میں روسی جارحیت کا جواب دے سکے تاہم اس پر روس نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو دو ہفتوں میں یوکرین پر قبضہ کر لیں۔ دریں اثنا یوکرین کے صدر پیٹرو پروشنکو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ مشرقی یوکرین کے معاملے پر سیز فائر کا معاہدہ طے پا گیاہے جس سے کشیدہ ماحول کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی تاہم اس معاہدے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔

مگر روس نواز علیحدگی پسندوں کی جانب سے اس معاہدے کے حوالے سے تاحال کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ادھر یوکرینی وزیر اعظم آرسینی یاٹسینی یْک نے روس کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے اور اپنے ملک کے مشرقی حصے میں جاری بحران کی تمام تر ذمے داری روس پر عائد کرتے ہوئے کیف کی طرف سے نیٹو اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔ ویلز میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے ایک روز قبل یاٹسینی یْک کا کہنا تھا کہ جارحیت پسند روس کو عالمی قوانین کے تحت ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اپنی کابینہ سے خطاب میں انھوں نے روسی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے فیصلے کا بھی اعلان کیا تا کہ اس طرف سے کسی مداخلت کا احتمال نہ رہے۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوباما نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یوکرین روس جنگ بندی معاہدہ پر تبصرہ قبل از وقت ہے کیونکہ اصل صورت حال کا پتہ تو وقت آنے پر ہی چلے گا۔ یوکرین کے حوالے سے امریکا اور یورپ کے ساتھ آسٹریلیا نے بھی عملی اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے یوکرین کو فوجی امداد کی پیشکش کر دی ہے جب کہ روس کو یورینیم کی برآمد پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے پارلیمنٹ سے خطاب میں بتایا کہ یوکرین کے معاملہ پر ردعمل کے تحت روس کو آسٹریلیا سے یورینیم کی برآمد مزید نوٹس تک بند رہے گی کیونکہ آسٹریلیا کسی ایسے ملک کو یورینیم برآمد نہیں کر سکتا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت یوکرین کے لیے قلیل مدتی امداد اور فوجی امداد کی فراہمی پر بھی غور کر رہی ہے اور ان کا ملک یوکرین کو سویلین امداد بھی دے سکتا ہے۔

ایک طرف یوکرین کا بحران حل کرانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں دوسری طرف روس نواز باغیوں کے ساتھ یوکرین میں جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ تازہ خبروں کے مطابق لوہانسک کے علاقے میں روس نواز باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں یوکرین کے 87 فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس سلسلہ میں یوکرین کے شمال مشرقی علاقے زپوزیہ میں، جو ابھی تک جنگ سے متاثر نہیں ہوا ہے، ریکروٹنگ کمانڈ نے کہا ہے کہ فوجیوں کی نعشیں دو روز کے دوران مقامی مردہ خانے کے حوالے کی گئی ہیں۔یوکرین کے مسئلہ پر روس کے یورپ اور امریکا کے ساتھ تنازعات میں شدت آ رہی ہے۔

روس اب بھی ایک بڑی قوت ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی قوت کو ایک بار پھر تسلیم کرانے کے لیے جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ یہ صورت حال خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے جو کسی بھی طور درست نہیں۔ روس' یورپ اور امریکا کسی نئے تنازعے میں الجھنے کے بجائے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔