رشوت لینے پر تین پولیس افسران کو 3 سال قید جیل بھیج دیا گیا

ملزمان نے سی ویو کے ہوٹل سے شوہر نوید کو حراست میں لیکرغیر قانونی حراست میں رکھا ،رہائی کے عوض20 ہزار۔۔۔، درخواست گزار


Staff Reporter September 05, 2014
اغوا برائے تاوان کے 3 مجرموں کو عمر قید کی سزا، اقدام قتل کے ملزمان علی محمد اور ماجد کو جرم ثابت ہونے پر 7 سال قید۔ فوٹو: فائل

انسداد بدعنوانی عدالت کی جج گلشن آرا چانڈیو نے رشوت ستانی کے مقدمے میں ملوث تھانہ کلاکوٹ کے ایس ایچ او انسپکٹر حاجی ثنا اللہ تھانہ، پریڈی کے سب انسپکٹر سعید خان اور اے ایس آئی علی حسن کو جرم ثابت ہوجانے پر 2 دفعات میں مجموعی طور پر 3 سال قید کی سزا سنائی، تینوں مجرم ضمانت پر تھے، عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے انھیں جیل بھیج دیا۔

استغاثہ کے مطابق مجرموں کے خلاف مدعیہ لبنیٰ نے 2011 میں عدالت میں نجی استغاثہ داخل کیا جس میںاس نے بتایا کہ ملزمان نے تھانہ درخشاں کے علاقے سی ویو کی حدود میں کاکڑ ہوٹل سے اس کے شوہر نوید کو حراست میں لیا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکات کی اور شوہر کو غیر قانونی حراست میں تھانہ میں رکھا تھا اور رہائی کے عوض 20 ہزار روپے رشوت وصول کی، اس کے بعد بھی مزید رقم کا مطالبہ کرتے رہے اور اس کو اور اس کے شوہر کو بلیک میل کرکے ہراساں کرتے تھے،عدالت سے رجوع کرنے پر تحقیقات کی گئی تھی، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مجرموں کے خلاف نجی استغاثہ داخل کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اغوا برائے تاوان کے الزام میں ملوث مجرم حسن علی اور ایس انور کو جرم ثابت ہونے پر دونوں مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی، مجرموں نے 25 نومبر 2011 کو سہراب گوٹھ کے علاقے سے مغوی نثار احمد کو اغواکیا تھا اور اہلخانہ سے 80 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا، بعدازاں 5 روز بعد اے وی سی سی نے نادرن بائی پاس کے علاقے میں واقع کچی آبادی کے مکان میں چھاپہ مارا تھا اور مغوی کا بازیاب کیا تھا۔

اس موقع پر ایک اور مغوی ریٹائر کرنل کو بھی بازیاب کیا تھا جس کا الگ مقدمہ دوسری عدالت میں زیر سماعت ہے، انسداد دہشت گردی کی اسپیشل عدالت کے جج نعیم میمن نے اغوا برائے تاوان کے الزام میں ملوث مجرم زوالفقار کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور اسکی منقولہ غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا،شریک ملزمان محمد اعجاز ، محمد علی اور خاتون حجانی بیگم کو عدم ثبوت پر بری کردیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے 11 جنوری 2012 کو گلبرگ کے علاقے سے ڈھائی سالہ محمد شاہ زیب کو اغوا کیا تھا اور اہل خانہ نے ایزی لوڈ کے ذریعے تاوان وصول کیا مزید رقم کا تقاضہ کیا، خاتون حجانی بیگم جو کہ مدعیہ حسینہ بی بی کی سابقہ کرائے دار تھی کو پولیس نے شک کی بناپر حراست میں لیا اور اسکی نشاندہی پر مارچ کو ملزم ذوالفقار کو گرفتار کیا تھا، دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی شگفتہ صدیقی نے پولیس مقابلہ اقدام قتل کے الزام میں ملوث مجرموں علی محمد اور ماجد علی کو جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 7 سال قید فی کس 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔