پنجاب میں مسلسل بارش سے تباہی

پاکستانی ایک زندہ دل قوم ہے جو مشکلات مصائب و آلام اور قدرتی آفات کا مقابلہ بڑی جواں مردی سے کرتی ہے۔۔۔


Editorial September 06, 2014
پاکستانی ایک زندہ دل قوم ہے جو مشکلات مصائب و آلام اور قدرتی آفات کا مقابلہ بڑی جواں مردی سے کرتی ہے. فوٹو؛ اے پی پی

مون سون برسات کی جھڑی کیا لگی کہ پنجاب اور آزاد کشمیر میں 70 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اب تک ہو چکا ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، موسلا دھار بارش کے باعث مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے کئی ہنستے بستے گھرانے اجڑ گئے، گھر ماتم کدہ بن گئے، ندی نالوں میں طغیانی تو ایک طرف رہی، دریا بھی چھلک پڑے، محکمہ موسمیات نے مزید 2 دن بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جب کہ محکمہ انہار نے اگلے 48 گھنٹوں کے دوران ستلج، راوی، چناب، نیلم، جہلم اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا ہے۔

گو کہ امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، پاک فوج کے جوان بھی مقامی انتظامیہ سے تعاون کر رہے ہیں، لیکن صورتحال خاصی پریشان کن ہے، کیونکہ بھارت نے دریائے چناب میں کئی لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ چھوڑ دیا ہے جس سے پنجاب میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ قوم پر ایک مرتبہ پھر مشکل وقت آن پڑا ہے۔ پاکستانی ایک زندہ دل قوم ہے جو مشکلات مصائب و آلام اور قدرتی آفات کا مقابلہ بڑی جواں مردی سے کرتی ہے لیکن انتظامی اور حکومتی سطح پر بہت سی خامیاں متعلقہ محکموں میں موجود ہیں جو عوام کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ اس وقت جو زمینی حقائق ہیں ان کے مطابق پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں کی سڑکیں جھیل کا منظر پیش کر رہی ہیں، کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کردہ انڈر پاسز تالاب بن چکے ہیں، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ ہو یا سیالکوٹ الغرض کسی بھی شہر کی صورتحال تسلی بخش نہیں بلکہ پریشان کن ہے۔

سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے جنھوں نے انڈر پاسز بنائے انھوں نے بارشوں کے تسلسل اور پانی کی کثیر آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی نکاسی کے لیے موٹرز یا پمپس کا متبادل نظام کیوں نہیں بنایا؟ عوام کے گھروں میں بجلی کے ننگے تار بھی موت کا پیغام لے کر آئے۔ بوسیدہ مکانات بھی حادثات کا سبب بنے، جن کے مکین حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جڑواں شہروں میں شدید بارش، تیز ہوا اور طوفان سے درجنوں درخت اکھڑ گئے، ہورڈنگ بورڈ گر گئے، نواحی علاقوں میں گھروں کی دیواریں گر گئیں، نالہ لئی میں شدید طغیانی اور سیلاب سے خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ اسلام آباد بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لاہور سے آنے والی دو پروازیں منسوخ کی گئیں، راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپل وے کھول دیے گئے، مری میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے، چکوال شہر میں جہلم روڈ اور پنڈی روڈ کی سڑکیں زیر آب آ گئیں، جب کہ بعض مقامات پر پانی گھروں اور مکانوں کے اندر داخل ہو گیا۔ دینہ جہلم میں جی ٹی روڈ پر اچانک سیلابی ریلا آنے کی وجہ سے سلاٹر ہاؤس کے قریب پرانا پل بہہ گیا، پل پر کھڑے پانی کا نظارہ کرنے والے 40 افراد بھی پانی میں بہہ گئے۔

یہ خبریں ظاہر کرتی ہیں کہ سڑکوں سے پانی کی نکاسی کاکوئی بندوست نہیں ہے اور نہ ہی عوام میں شعور ہے کہ وہ بوسیدہ پلوں سے دور رہیں چہ جائیکہ تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو جائیں۔ آزاد کشمیر میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، مظفرآباد، کوٹلی، راولا کوٹ، بھمبر میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی نالہ بھمبر میں شدید طغیانی کے باعث فوج کی مدد طلب کر لی گی ہے جب کہ لاہور میں8 عمارتیں منہدم ہوئیں، صرف لاہور میں13 افراد ہلاک ہوئے۔ گوجرانوالہ ریجن میں بھی بارش سے چھتیں، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 19 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی ہوچکے ہیں، فیصل آباد میں8 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہو گئے کئی مویشی بھی مارے گئے۔

بارشوں کے تسلسل سے جانی و مالی نقصان جہاں افسوس ناک ہے وہیں بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر معاملات طے نہ ہونے کے باعث پاکستان کو بار بار سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ پہلے تو اپنے ڈیمز میں خوب خوب پانی جمع کر لیتا ہے اور پھر اچانک پنجاب کے دریاؤں میں لاکھوں کیوسک پانی چھوڑکر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

جو کہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کمالیہ، جھنگ، روڈ، اٹھارہ ہزاری، چناب نگر، احمد پور سیال سمیت متعدد علاقوں میں فلڈ وارننگ جاری ہو چکی ہے نقل مکانی کا عمل جاری ہے، دریا ئے راوی سے سب سے بڑا خطرہ علاقہ کمالیہ کو ہے۔ دریائے جہلم اور چناب کی قریبی آبادیوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ایک مضبوط اور فعال میکنزم کی ضرورت ہے تا کہ انسانی جانوں کے ضیاع اور کثیر مالی نقصان سے بچا جا سکے۔