سیلاب بلاخیز مژگاں تو کھول

اب تک سیالکوٹ کی کرسچن کالونی سے 113، ترلائی سے 188، چونترا سے 42 اور جبرمیانہ سے 25 افراد کو بچایا گیا ہے۔


Editorial September 07, 2014
اب تک سیالکوٹ کی کرسچن کالونی سے 113، ترلائی سے 188، چونترا سے 42 اور جبرمیانہ سے 25 افراد کو بچایا گیا ہے۔ فوٹو/فائل

لاہور: پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت اور پہاڑی علاقوں میں مسلسل 24 گھنٹوں سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی بارش نے حسب روایت قیامت برپا کر دی ہے، متاثرین کو پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، مظفرآباد، گلگت اور کشمیر میں 2002 سے 2013 کی موسلا دھار اور طوفانی بارشیں اور سیلابی ریلے یاد آ گئے، جن میں بے تحاشا جانی و مالی نقصانات کی ہولناکی دلگداز تھی۔ اس مرتبہ بھی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل جاری رہنے والی بارش کے باعث زندگی کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے۔

بلاشبہ بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں اہل وطن کے لیے نئی بات نہیں، گزشتہ بارشوں اور سیلابوں میں انگنت لوگ، شہری و دیہی علاقے تباہی کی نذر ہوئے، مکانات منہدم ہوئے، ڈوبے، کھڑی فصلیں برباد اور لاکھوں ہموطن بے گھر ہوئے۔ اور ''ڈان بہتا رہا'' کی طرح ہر عہد حکومت میں ایسا ہی ہوتا رہا۔ تاہم سب سے الم ناک حقیقت اور عجب المیہ یہی رہا کہ بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جانے والے اقدامات و انتظامات اور اس سے پیدا شدہ مکمل انتظامی ناکامی سے متعلقہ حکومتی محکموں، ریاستی اداروں، فلڈ ریلیف کمیشن، ماحولیاتی ایجنسی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے کرتا دھرتاؤں کے ضمیر میں کوئی خلش تک پیدا نہیں ہوتی جب کہ محکمہ موسمیات کی یومیہ پیش گوئیاں ہوتی ہیں، جن کا مقصد حکومت اور اس کے متعلقہ محکموں کو خبردار کرنا ہوتا ہے مگر مون سون کی بارشوں کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں بارشیں کبھی بھی رحمت نہیں ہمیشہ باعث زحمت قرار دی گئیں۔

نہ فصلوں کے حیات نو اور زراعت کی بالیدگی کے لیے رین ایمرجنسی کام آئی، نہ سبزے، مویشیوں کے چارے اور اجناس، پھل، پھول اور سبزیوں کی کاشت کے لیے فطرت کی فراخدلی اور برستے پانی سے استفادے کا کوئی مستقل میکنزم بنایا گیا۔ ڈیموں کی تعمیر سیاست زدہ ہو گئی، نہ ٹریفک اور مواصلات کا نظام معطل ہونے کی مضحکہ خیز صورتحال کو کنٹرول کیا گیا، نہ سیوریج ، ڈرین سسٹم، برساتی نالوں کی بروقت صفائی اور نکاسی آب کی جدید خطوط پر ڈیزائننگ پر توجہ دی گئی۔ رین ایمرجنسی اور فلڈ کنٹرول کے بلند بانگ دعوؤں کا شور ہتا ہے مگر بس ادھر بارشیں شروع ہوئیں ادھر ناگہانی اور قدرتی آفت کے بیانات جاری ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ماسٹر پلان بنتے تو کہیں بھی سڑکیں تالاب اور نشیبی علاقے جھیلوں کا منظر پیش نہ کرنے لگتے۔ یہ کام گڈ گورننس ہو تبھی انجام پاتے ہیں، ایڈہاک ازم میں تو یہی ہوتا ہے جو اس وقت بارش اور سیلابی ریلوں کی شکل میں ہر کس و ناکس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران بھی کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہی، چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور ٹریفک وغیرہ کے حادثات میں سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں، مکان گرنے اور کھلے پلاٹوں میں پانی بھرنے سے متاثرہ لوگوں نے کھلے آسمان تلے پناہ لے رکھی ہے، طویل بارش سے سڑکیں اور ندی نالے اوور فلو ہو گئے، دفاتر میں ملازمین کی حاضری انتہائی کم رہی، کئی شہروں میں اسکول بند کر دیے گئے۔ آزاد کشمیر میں 38 ہلاکتیں ہوئی ہیں، گلگت بلتستان میں بھی بارش شروع ہو گئی ہے، دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

دریا، ندی نالے بپھر گئے ہیں، درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، کئی ایک کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، ستلج اور چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہو کر سولہ فٹ تک جا پہنچی، راول ڈیم کا سپل وے پیشگی اطلاع کے بغیر کھولے جانے سے دریا بپھر گیا جس سے کرسچن کالونی ڈوب گئی، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ ساڑھے 3 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا، جہلم کے قریب ریلوے پٹڑی کو نقصان پہنچنے سے لاہور سے راولپنڈی کے لیے ٹرین سروس عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے، جھنگ میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے فوج طلب کر لی گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاہور سمیت صوبہ بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ادھر دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا غلط ڈیٹا فراہم کرنے کی بھارتی سازش بھی زیر بحث آئی ہے، پاکستان نے غلط ڈیٹا فراہم کرنے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے اور انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک نجی نیوز چینل کے مطابق بھارت نے پہلے بتایا کہ چناب میں اکھنور سے پاکستان میں پانچ لاکھ کیوسک پانی مرالہ کی طرف آ رہا ہے تاہم جمعہ کی صبح اچانک بتایا گیا کہ پانی کی مقدار بڑھ کر 14 لاکھ کیوسک ہو چکی ہے۔ دوپہر میں کہا گیا کہ مقدار دس لاکھ ہے۔ اس کے بعد پھر ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی مرالہ کی جانب آنے کی اطلاع دی۔ پاکستان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارت سے ڈیٹا لینا بند کر دیا ہے۔ فلڈ وارننگ سسٹم کو سیٹلائٹ اور پاکستانی بیراجوں کے ڈیٹا پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے 2011 میں امریکی سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کثیر المقاصد ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کے ذریعے پاکستان کو پانی کی کمی یا بندش سے زرعی بحران کا شکار بنائے گا۔ اسی طرح اپریل 2014 کو برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز نے ''انڈیا واٹر وار'' کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت خطے میں آبی وسائل پر مکمل دسترس حاصل کر کے پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کی زراعت کو مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی حوالہ سے میڈیا نے بھارت کی طرف سے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی اطلاع دی ہے جس پر پاکستان کو بھارت سمیت عالمی برادری سے سخت احتجاج کرنا چاہیے۔ یہ غیر انسانی اقدام اور مجرمانہ طرز عمل ہے۔ دوسری طرف بارش سے بچاؤ اور ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کاموں اور بر وقت امدادی ٹیموں کا مربوط انداز میں متاثرین کی بحالی اور خوراک کے انتظامات کا نیٹ ورک قائم کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک بھر میں سماجی اور فلاحی تنظیمیں سیلاب سے متاثرہ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی ہیں، آئی ایس پی آر کے مطابق سیالکوٹ میں جوان سیار خان لوگوں کو بچاتے ہوئے ڈوب کر شہید ہو گیا۔ متاثرین کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کی مدد سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اب تک سیالکوٹ کی کرسچن کالونی سے 113، ترلائی سے 188، چونترا سے 42 اور جبرمیانہ سے 25 افراد کو بچایا گیا ہے۔ ادھر پاکستان نیوی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کھنہ لہتراڑ روڈ (نزد برما پل) میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے فلڈ ریلیف آپریشن کا آغاز کیا۔ پاکستان نیوی کی فلڈ ریلیف ٹیمیں ضروری ساز و سامان کے ساتھ بشمول زولو بوٹس اور ماہر غوطہ خوروں کے ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں، پاک فوج نے راولپنڈی میں پھنسے 368 لوگوں کو ریسکیو کیا مگر ضرورت جدید ترین آلات و انتظامات کی ہے۔

برطانیہ میں طوفانی بارش اور سیلاب کے باعث شہری تکالیف پر برہم ہو گئے، اور ماحولیاتی ایجنسی کے سربراہ سر کرس اسمتھ سے استعفیٰ طلب کیا گیا، عوامی سروے میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ لیکن ہمارے حکمراں اور متعلقہ ادارے اس وقت بھی احتساب سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں جب حالات ''تہیۂ طوفاں کیے ہوئے'' نظر آتے ہیں۔ ان کی مژگاں نہیں کھلتی۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟