بھارت کا آسٹریلیا کے ساتھ سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا سمجھوتہ

بھارت میں اس وقت بیس ایٹمی پلانٹ کام کر رہے ہیں جو چھ مقامات پر لگے ہیں۔


Editorial September 07, 2014
بھارت میں اس وقت بیس ایٹمی پلانٹ کام کر رہے ہیں جو چھ مقامات پر لگے ہیں۔ فوٹو؛فائل

امریکا کے بعد آسٹریلیا نے بھی بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سمجھوتہ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اگلے دن نئی دہلی میں منعقد ہونے والی اس اہم تقریب میں شرکت کے لیے آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ بطور خاص بھارت کے دورے پر پہنچے۔ دہلی میں آسٹریلوی سفیر پیٹرک سکلنگ اور بھارتی اٹامک انرجی محکمے کے سیکریٹری آر کے سنہا نے سمجھوتہ پر دستخط کیے جب کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی تقریب میں شریک تھے۔

اس موقع پر آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ انھیں بھروسہ ہے کہ بھارت یورینیم کو خالصتاً پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔ واضح رہے بھارت اس معاہدے کا طویل عرصہ سے منتظر تھا جس میں آسٹریلیا بھارت کو یورینیم فروخت کرے گا۔ باور کیا جاتا ہے کہ بھارت امریکی اور آسٹریلوی سول نیوکلیئر معاہدوں کے بعد اپنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر کسی نہ کسی حد تک قابو پا لے گا۔ دونوں وزرائے اعظم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں میں تجارتی اور تزویراتی روابط میں زبردست اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کے ساتھ اس معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیا۔

امریکا کے سابق صدر جارج بش نے سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کیے تھے جس پر پاکستان نے بہت کوشش کی کہ اسی نوعیت کا ایک معاہدہ پاکستان کے ساتھ بھی امریکا کر لے جس سے پاکستان کو ''ایٹمی کلب'' کی مارکیٹ سے مطلوبہ ''سودا سلف'' خریدنے کا حق مل جائے مگر شاید ہماری طرف سے بات چیت کرنے والے حکام میں دوسروں کو قائل کرنے کی اہلیت میں کوئی خامی ہے۔ اور اب آسٹریلیا بھی بھارت کے ساتھ اسی امریکا والے سمجھوتے کے لیے امڈتا چلا آیا ہے۔ تاہم آسٹریلوی وزیر اعظم کو یہ احساس ضرور ہے کہ بھارت اس سول معاہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے تحت ملنے والے یورینیم کا حربی استعمال بھی کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے بطور خاص یہ کہا کہ انھیں بھارت پر اعتماد ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا اور یورینیم کو خالصتاً پرامن مقاصد کی خاطر ہی استعمال کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد بھارت کو نہ صرف آسٹریلیا یورنیم فروخت کرے گا بلکہ بھارت عالمی ایٹمی مارکیٹ سے بھی اپنی ضرورت کی دیگر اشیاء بھی حاصل کر سکے گا۔ جہاں تک بھارت کے اندر توانائی کی قلت کا تعلق ہے تو ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں چار سو ملین یعنی چالیس کروڑ لوگ بجلی سے مکمل طور پر محروم ہیں جب کہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اکثر و بیشتر بجلی بند رہتی ہے۔

بھارت میں اس وقت بیس ایٹمی پلانٹ کام کر رہے ہیں جو چھ مقامات پر لگے ہیں۔ آسٹریلیا کے ساتھ اس سمجھوتے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کو جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی طاقت بنانا چاہتی ہیں جس طرح انھوں نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی اور مہلک ترین طاقت بنا رکھا ہے' جس پر جنگی جرائم کے قوانین کی پابندی بھی لازم نہیں ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کے آسٹریلیا سے یورنیم خریدنے کا معاملہ 2012 میں منموہن سنگھ کے دور حکومت میں شروع ہوا تھا جس پر نہایت سنجیدگی اور ذمے داری سے مذاکرات ہوتے رہے جو نریندر مودی کے دور میں کامیابی سے ہمکنار ہو گئے۔