پانی چوروں کو سزا دینے کیلئے سخت قانون موجود نہیں ایم ڈی واٹر بورڈ

پانی کے نمونوں کا لیباریٹری میں تجزیہ جاری رہتا ہے، ہر ماہ 220 کلورین سلنڈر استعمال ہوتے ہیں، شہری پانی کی ٹنکیاں۔۔۔


Staff Reporter September 07, 2014
ٹینکوں میں موجود گندگی اور کائی کلورین کو نگل جاتی ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹ اور منرل واٹر کمپنیاں بورنگ کا پانی فروخت کررہی ہیں۔ فوٹو: فائل

ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی شہریوں کو عالمی معیار کے مطابق پانی فراہم کرنے کے لیے ہنگا می اقدامات کررہا ہے۔

واٹر بورڈ روزانہ نگلیریا کے حوالے سے پانی کے نمونوں کی جانچ کرکے شہریوں کو مہلک جرثومہ سے محفوظ رکھتا ہے، پانی کے معیار کو بر قرار رکھنے کے لیے غیر معمولی ما نیٹرنگ کا نظام موجود ہے، جدید ترین سہولتوں سے آراستہ لیبارٹری میں ہمہ وقت پانی کے معیار کا تجزیہ جاری ہے، شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے زیر زمین ٹینک اور اوورہیڈ ٹینک صاف کروالیں، ٹینکوں میں موجود گندگی اور کائی کلورین کو تیزی سے نگل جاتی ہے، ناجائز ہائیڈرنٹ اور غیرقانونی منرل واٹر بنانے والی کمپنیاں بورنگ کا پانی فروخت کررہی ہیں، پانی چور شخصی ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں ان کی سزا کیلیے سخت قانون موجود نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے منیجنگ ڈائریکٹر قطب الدین شیخ نے سی او ڈی فلٹر پلانٹ پر صحافیوں کو نگلیریا اور کلورین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ صحت کے عالمی اصولوں کے مطابق لیبارٹری کے تجزیے کے تحت پانی کے معیار کو یقینی بنارہا ہے، شہریوں کو فراہم کیا جا نے والا پانی آلودگی اور بیکٹیریا سے پا ک ہے ، پانی میں کلو رین کی مقدار ڈبلیو ایچ او کے مقررہ تناسب اور معیار کے مطابق شامل کی جا رہی ہے، واٹر بورڈ کے سی او ڈی فلٹر پلانٹ، پیپری فلٹر پلانٹ، حب فلٹر پلانٹ ، نارتھ ایسٹ کراچی فلٹر پلانٹ پر پانی میں کلورین کی 2.5 پی پی ایم مقدار کی آمیزش جاری ہے جبکہ نیپا سخی حسن، LSR1 اور 2 یونیورسٹی ریزروائر 1-2 فیوچر کالونی،کورنگی ڈھائی، ناصر جمپ، NEK، پپری، ڈملوٹی 1-2 پر سوڈیم ہائیپو کلورائٹ کے پلانٹس کام کررہے ہیں۔

13 دیگر پمپنگ اسٹیشنوں پر سوڈیم کلورائٹ کے پلانٹس لگائے گئے ہیں ، پانی میں کلورین فارمولے کے تحت ملائی جارہی ہے زیادہ کلورین نقصان دہ ہوسکتی ہے، واٹر بورڈ نے پانچوں اضلاع میں صحت افسران، ڈی جی صحت، ای ڈی اوز اور پی ایچ ہی ڈی ہیلتھ کے ایم سی کو یہ تجویز دی تھی تاکہ پانی کے نمو نے جمع کر نے اور جا نچنے کا عمل شفاف بنایا جائے واٹر بورڈ ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور پانی میں کلورین ملانے کی ذمے داری پوری کررہا ہے ہم کلورین ملا نے کے بعد اس کی جانچ کرتے ہیں اور کئی مقامات سے نمو نے حا صل کر کے جا ئزہ لیا جاتا ہے، نگلریا اور ڈنگی سے تحفظ کیلیے محکمہ صحت، بلدیہ عظمیٰ، واٹربورڈ ، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران کی کمیٹی کام کررہی ہے، کمیٹی شہر سے نمونے لے رہی ہے جن علاقوں میں کلورین کی کمی کی رپورٹ ملتی ہے اس کمی کو ترجیحی بنیاد پر پورا کیا جاتا ہے۔

واٹربورڈ ہر ماہ 180 سے 220 کلورین سلینڈر استعمال کرتا ہے، موسم گرما میں پانی میں کلورین موسم سرما کے مقابلے میں زیادہ شامل کی جاتی ہے نگلیریا جرثومہ گرم پانی میں پرورش پاتا ہے، سرد پانی میں یہ زندہ نہیں رہتا، ڈنگی وائرس کھڑے اور صاف پانی میں افزائش پاتا ہے، شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے زیر زمین ٹینک اور اوورہیڈ ٹینک صاف کروا لیں تمام فلیٹس کی انجمنیں، مساجد کمیٹیاں اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، ہاسٹل، شاپنگ مال ، دفاتر وغیرہ کے ٹینک جو عرصہ دراز سے صاف نہیں کیے گئے انھیں صاف کرالیا جائے، ٹینکوں میں موجود گندگی اور کائی کلورین کو تیزی سے نگل جاتی ہے گندے ٹینک میں کلورین نصف گھنٹے میں تحلیل ہوجاتی ہے وضو کیلیے پانی ابال کر استعمال کریں، ناجائز ہائیڈرنٹس اور غیر قانونی منرل واٹر بنانے والی کمپنیاں بورنگ کا پانی فروخت کررہی ہیں جس سے نیگلریا کا جرثومہ پروان چڑھتا ہے، پانی چور شخصی ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں ان کی سزا کیلیے سخت قانون موجود نہیں ہے۔