پیر پگاراکابلدیاتی آرڈیننس پرپی پی کومناظرے کاچیلنج

پیپلزپارٹی ہمیں قائل یامطمئن کردے توہم حکومت میں بیٹھنے کو تیار ہیں،میڈیاسے گفتگو


Staff Reporter September 26, 2012
پیپلزپارٹی ہمیں قائل یامطمئن کردے توہم حکومت میں بیٹھنے کو تیار ہیں،میڈیاسے گفتگو۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

MIRPUR: حروں کے روحانی پیشوا اور پاکستان مسلم لیگ(فنکشنل)کے سربراہ پیرپگارانے پیپلز پارٹی کے رہنمائوںکوسندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 پر مناظرے کاچیلنج کردیاہے اورپیپلز پارٹی کے رہنمائوں سے کہاہے کہ اگروہ اس بلدیاتی آرڈیننس پرقائل یامطمئن کردیں توہم حکومت میں بیٹھنے کو تیارہیں۔

منگل کوراجاہائوس میں ضلع مٹیاری سے تعلق رکھنے والے میمن اتحادکے وفدسے ملاقات کے بعد میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے پیر پگارانے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے آرڈیننس جاری کرکے خطرناک قدم اٹھایاہے،یہ آرڈیننس سندھ کے عوام کے ساتھ بہت بڑاظلم ہے،اس نظام میں میئرکواتنے اختیارات دے دیے گئے ہیںکہ میر ے گھرپربھی قبضہ کرسکتاہے اورنئے بلدیاتی نظام کے تحت میئراپنے ضلع میں نئی پولیس بھی تشکیل دے سکتاہے،نئے بلدیاتی نظام سے اندازہ ہوتاہے کہ حکومت کے اندر نئی حکومت قائم کی جارہی ہے جوسندھ کے خلاف سازش ہے،خداہماری رہنمائی کرے۔

ہم سندھ کے حقوق کیلیے آواز بلندکرتے رہیںگے اورجونئے بلدیاتی نظام کے خلاف ہے وہ ہمارادوست ہے،ہم اس کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نئے بلدیاتی آرڈیننس پرقوم کوبے وقوف بنایاگیا،ہم اس نظام کومسترد کرتے ہیں،ہماراموقف جائز ہے،ہم نے جائزموقف پراستعفے دیے ہیں اوراستعفیٰ دے کرکوئی مذاق نہیںکیا،استعفے کی رسیدیں ہمارے پاس موجود ہیں۔انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نئے بلدیاتی آرڈیننس کوسندھ اسمبلی میں لے آئے،اگروہ اس آرڈیننس پربحث کراتی ہے توہم اسمبلی میں اس آرڈیننس کے حوالے سے مکمل بحث کریںگے۔

نیابلدیاتی آرڈیننس سندھ اسمبلی سے منظورکرایاگیاتویہ سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی،پیپلز پارٹی کے پاس سندھ اسمبلی میں اکثریت موجودہے،اگر یہ آرڈیننس مجبوراًمنظورہواتو یہ جمہوریت نہیں آمریت کی علامت ہوگا،پیر پگارا نے کہاکہ صدرمملکت سے ٹیلی فون پررابطہ ضرور ہواتھا،انھوں نے میری خیریت دریافت کی اورمیں نے ان کی،اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی۔