شام کی مزید بگڑتی صورتحال

شام میں جاری خانہ جنگی میں مزید شدت پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں ...


Editorial September 08, 2014
شام میں جاری خانہ جنگی میں مزید شدت پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ فوٹو: فائل

شام میں جاری خانہ جنگی میں مزید شدت پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر رقع پر شامی فضائیہ کی وقفے وقفے سے جاری بمباری کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 25 افراد کی ہلاکت کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ زیادہ ہلاکتیں ایک پرُ ہجوم بیکری پر میزائل گرنے سے ہوئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز تک کیے جانے والے آٹھ ہوائی حملوں میں علاقے کی متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

اس پورے علاقے پر آئی ایس کے انتہا پسندوں کا قبضہ ہے۔ خبر کے مطابق ایک جگہ سولہ افراد ہلاک کیے گئے جن میں 9 آئی ایس کے جنگجو تھے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جنگجوؤں کے ایک ترجمان نے، جسے ابو ابراہیم کی عرفیت سے پہچانا جاتا ہے، کہا ہے کہ رقع شہر میں نہایت خاموشی سے قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ابو ابراہیم نے بتایا کہ شہر کا ڈیڈ ہائوس کٹی پھٹی لاشوں سے بھر چکا ہے جن کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ جنگجوئوں نے محکمہ خزانہ کی سرکاری عمارت کو اپنا صدر دفتر بنا رکھا تھا۔ اس شہر سے پانچ لاکھ کے لگ بھگ لوگ بے گھر ہونے کے بعد دریائے فرات کے کناروں پر پڑے ہیں۔

آئی ایس کے جنگجوئوں نے رقع شہر پر قبضہ گزشتہ سال کیا تھا۔ جس پر شہریوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی تھی۔ جنگجوئوں کے گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ روٹین میں صحافیوں کو اغوا کر لیتا ہے جب کہ حال ہی میں اس نے دو امریکی صحافیوں کے سر بھی قلم کر دیے ہیں۔ یہ کام انھوں نے عراق پر امریکی بمباری کے جواب میں رد عمل کے طور پر کیا۔ شام میں جنگجوئوں کے ہاتھوں صدر بشار الاسد کی حکومت کا بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق آئی ایس کے جنگجوؤں نے ایک لبنانی فوجی کا بھی سر قلم کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ ایک لبنانی فوجی کو ہلاک کر چکے ہیں۔ شام کی صورتحال کے علاوہ عراق کے حالات بھی کسی کے قابو میں نہیں آ رہے جہاں دھماکوں اور تخریبی کارروائیوں میں بھاری جانی اور مادی نقصانات ہو رہے ہیں جس کے رد عمل کے طور پر وہاں نئے نئے جنگجو گروپ پیدا ہو رہے ہیں۔ آئی ایس اور داعش وغیرہ بظاہر اسی سلسلے کی کڑیاں لگتی ہیں جب کہ اس ضمن میں سی آئی اے اور موساد وغیرہ کی کارکردگی کا ذکر بھی سننے میں آتا ہے کہ یہ تنظیمیں مسلمانوں کا نام بدنام کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔