سیاسی کے بعد آبی سیلاب حکومت کا کڑا امتحان

اب تک کے مذاکرات کے بعد جو رپورٹس آئی ہیں اس میں یہ تاثر ملتا ہے کہ شائد حکومت نے ننانوے فیصد لچک کا مظاہرہ دکھایا ہے


Irshad Ansari September 10, 2014
فریقین کے درمیان مذاکرات کے بارہ سے زائد راؤنڈ ہونے کے باوجود اُلجھے ہوئے ریشم کا سرا نظر نہیں آ رہا۔ فوٹو: فائل

مملکت خداداد اس وقت سیلابوں کی زد میں ہے۔ حکومت اور عوام سیاست کے سیلاب سے نبرد آزما تھے کہ قدرت نے مملکت خداد داد اور اس کے مکینوں کو پانی کے سیلاب کی ایک اور آزمائش میں ڈال دیا ہے، دونوں سیلاب ملک و قوم کی معاشی تباہ کاری کا باعث بن رہے ہیں جس کے اثرات دیر تک رہیں گے۔

ایک ابتدائی اندازے کے مطابق سیاسی سیلاب سے ملکی معیشت کو اب تک ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چُکا ہے جبکہ پانی کے طوفانی سیلاب کی تباہ کاریاں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق پانی کے سیلاب سے ہونیوالی تباہ کاریوں سے دو ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے البتہ حتمی تخمینہ سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں اور اس بحران سے نکلنے کے بعد لگایا جائے گا۔

البتہ ملک میں آنے والے طوفانی سیلابوں سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث رواں مالی سال 2014-15 کیلئے مقرر کردہ معاشی اہداف پر نظر ثانی کا امکان ہے کیونکہ ملک میں سیلاب کے باعث ہونیوالی تباہ کاریوں نے زرعی شعبہ کو بُری طرح متاثر کیا ہے جس کے باعث زرعی ان پُٹ کی قلت کا خدشہ ہے، یوں ملک میں صنعتی و کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس وجہ سے غالب امکان ہے کہ زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ ملکی جی ڈی پی پی گروتھ،مالیاتی خسارہ اورٹیکس ریونیو سمیت دیگر معاشی اہداف میں کمی کرنا پڑے گی۔

اسلام آباد میں جو سیاسی سیلاب آیا ہوا ہے یہ انسانوں کے اپنے بس میں ہے اور اگر انسانیت کا درد محسوس کرتے ہوئے سیاستدان عقلمندی سے کام لیں تو یہ سیاسی سیلاب چند منٹ اور گھنٹوں میں ختم ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنوں کے باعث سیاسی سیلاب جتنی طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا گراف بھی اتنا ہی اوپر جاتا جا رہا ہے لیکن عوام کو خوشحالی کے سُہانے خواب دکھانے اور دودھ و شہد کی نہریں بہانے کے دعویدار سیاستدان اپنی انا کے خول سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں۔

فریقین کے درمیان مذاکرات کے بارہ سے زائد راؤنڈ ہونے کے باوجود اُلجھے ہوئے ریشم کا سرا نظر نہیں آ رہا۔ مذاکرات کے ہر دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے اور معاملات حل ہونے کی جانب پیشرفت کے رسمی کلمات بھی ادا کئے جاتے ہیں ۔ ایک طرف مذاکرات ہو رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب فریقین میں سے ایک فریق دوٹوک الفاظ میں اعلان کر دیتے ہیں ہیں کہ کمیٹیاں مذاکرات کرتی رہیں مگر وہ وزیراعظم کا استعفٰی لئے بغیر نہیں جائیں گے۔ اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب شاہانہ فیصلہ قائد نے ہی سُنانا ہے تو پھر ان کی طرف سے نامز کردہ کمیٹیوں کے ممبران کی کیا حیثیئت رہ جاتی ہے کیوں ملک و قوم کا قیمتی وقت اور سرمایہ ضائع کیا جا رہا ہے۔

حالیہ اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فریقین کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور حکومتی ٹیم کا دعوٰی ہے کہ تمام معاملات تقریباً طے پا چکے ہیں اوردو معاملات پر فریقین کی قیادت کے مشورہ کے بعد جوابات دیئے جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے وزیراعظم کے استعفٰی کی شرط پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر پیشرفت کیسی ہے باقی معاملات تو پہلے سے ہی تقریباً طے ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موقف بارے حکومت کو جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ چُکے ہیں یعنی وہ استعفٰی کی شرط سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں تو ایسے میں مذاکراتی کمیٹیوں کیلئے بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ وہ منصفانہ رائے اپناتے ہوئے اس فریق پر زور کیوں نہیں دیتے جو اپنی غیر آئینی شرائط سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

اب تک کے مذاکرات کے بعد جو رپورٹس آئی ہیں اس میں یہ تاثر ملتا ہے کہ شائد حکومت نے ننانوے فیصد لچک کا مظاہرہ دکھایا ہے اور وزیراعظم کے استعفٰی کے علاوہ دیگر تمام شرائط مان لی ہیں، مگر دوسرا فریق وزیراعظم کے استعفٰی کی ایک شرط پر بھی نرمی دکھانے کو تیار نہیں ہے تو پھر یہ فریق کیسے دعوٰی کر سکتا ہے کہ اس نے بہت زیادہ لچک دکھائی ہے اگر معاملہ حکومتی دعووں کے برعکس ہے تو اسے سامنے لانا چاہیے مگر اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے۔

چین جیسے دوست، ہمسایہ اور برادر ملک کے صدر کا دورہ بھی انہی دھرنوں کی نذر ہو چکا ہے اور اس دورے کے ملتوی ہونے سے 34 ارب ڈالر کے ترقیاتی معاہدے و ایم اویوز تاخیر کا شکار ہوئے ہیں، اس کا خمیازہ قوم نے بھگتنا ہے کیونکہ اس میں ملک کو درپیش سب سے اہم مسئلے توانائی کے بحران کے حل کیلئے چودہ بڑے منصوبے شامل ہیں جن پر چودہ ارب ڈالر کے لگ بھگ مالیت کی سر مایہ کاری ہونا ہے۔

اطلاعات ہیں چائنیز حکام نے بھی دھرنے والوں کو درخواست کی تھی کہ ان کی خاطر دھرنے ملتوی کردیئے جائیں، اگر ملتوی نہیں کر سکتے تو دھرنے ریڈ زون سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیئے جائیں تاکہ صدر کا دورہ متاثر نہ ہو سکے، مگر ان کی بھی نہیں سُنی گئی اور تحریک انصاف کے قائد وزیراعظم کے استعفٰی کی ضد کئے بیٹھے ہیں اور لگ یوں رہا ہے جیسے وہ اپنی پارٹی کو فعال بنانے اور کارکنوں کو سیاسی طور پر متحرک بنانے کیلئے اس ایونٹ کو استعمال کر رہے ہیں چونکہ عمران خان اپنی سیاست کا محور نوجوانوں کو بنائے ہوئے ہیں اس لئے وہ ستر سال کی عمر میں بچوں والی سیاست کررہے ہیں کیونکہ جس طبقے کو انہوں نے اپنی سیاست کا محور بنارکھا ہے وہ لااُبالی اور ضد و اناء سے مزین عمر سے تعلق رکھتا ہے۔

اگر ان نوجوانوں کیلئے عمران خان ان کے طرز کا رویہ نہیں اپناتے تو انہیں اس طبقے سے محرومی کا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم قومی معاملے پر وہ اسی طرح ضد اور انا پر قائم ہیں جیسے نوجوان طبقہ قائم رہتا ہے اور عمران خان کو شائد کسی نے یہ باور کروادیا ہے کہ اگر ابھی نہیں تو کبھی نہیں والا معاملہ ہے۔ اگر موجودہ حکومت ڈی ریل نہیں ہوتی اور مڈ ٹرم الیکشن نہیں ہوتے تو شائد پھر کبھی عمران خان کی پارٹی اس پوزیشن میں نہ آسکے کہ وہ وفاق تو دور کی بات صوبے میں بھی حکومت بنا سکے، اسی وجہ سے عمران خان وزیراعظم کے استعفٰی اور مڈ ٹرم الیکشن کیلئے تمام تر توانائیاں صرف کئے ہوئے ہیں۔

رہی بات علامہ طاہر القادری کی تو ان کی جماعت کا سیاسی وجود تو اونٹ میں زیرے کے مترادف ہے مگر وہ بھی وزارت عُظمٰی کا منصب سنبھالنے کے سُہانے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اب ان کا یہ خواب موجودہ نظام میں رہ کر پورا ہونا تو ناممکن ہے کیونکہ اس کیلئے انہیں عوام میں جانا ہوگا اور الیکشن جیت کر آنا ہوگا جو وہ ایک بار آزما چُکے ہیں اور نتائج دیکھ کر ہی انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔

اگرچہ موجودہ حالات میںجبکہ ملک کا وسیع علاقہ زیر آب ہو اور جس عوام کے حقوق اورخوشحالی کے لئے مسائل حل کرنے کی بات کی جاتی ہے وہ سیلاب سے تباہ و برباد ہو رہے ہوں تو ایسے میں انہیں اگر عوام کا دکھ ہے تو انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں جانا چاہیے اور جو خرچے دھرنوں پر کئے جا رہے ہیں وہ رقم متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے خرچ کی جائے تو یہ عوام کی بہتر خدمت ہوگی۔