بلدیہ وسطی میں کروڑوں روپے کی خوردبرد کا انکشاف

سابق اکاؤنٹس افسر نے 3 سال سے ملازمین کے انکم ٹیکس جمع نہیں کرایا، عدالتی حکم پر ہٹائے جانے کے باوجود ناصر احمد...


Staff Reporter September 10, 2014
کئی افسران نے محکمے سے باضابطہ طور پر انکم ٹیکس رقم کی ادائیگی کا چالان طلب کرلیا، افسران کا ٹیکس کی رقم کا سراغ لگانے کیلیے تحقیقاتی اداروں سے رابطے کا فیصلہ۔ فوٹـو: فائل

ISLAMABAD: بلدیہ وسطی میں افسران و ملازمین کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کی مد میں منہا کیے جانے والے کروڑوں روپے خوردبرد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بلدیہ وسطی کے سابق اکاؤنٹس افسر نے گزشتہ 3 سال سے ٹیکس کی مد میں منہا کی جانے والی رقم متعلقہ ادارے میں جمع کرائی اور نہ ہی افسران کو ادائیگی کے حوالے سے ملنے والا چالان دیا جس کے باعث ٹیکس ادا کرنے والے بلدیہ وسطی کے افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے اور انھوں نے ٹیکس کی رقم کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقاتی اداروں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق بلدیہ وسطی میں تعینات افسران کی تنخواہوں سے گزشتہ 3 سال سے انکم ٹیکس کی مد میں منہا کی جانے والی رقم خوردبرد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بلدیہ وسطی کا سابق اکاؤنٹس افسر ناصر احمد جو کہ عدالت کے حکم پر عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود اپنے تعلقات کی بنا پر تبادلے کے باوجود تاحال نہ صرف بلدیہ وسطی کے مالیاتی معاملات چلا رہا ہے بلکہ ایڈمنسٹریٹرز اور میونسپل کمشنر کو من پسند کاموں کے ذریعے رقم حاصل کرنے کی راہیں بھی دکھا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق اکاؤنٹس آفیسر کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ بلدیہ وسطی کے افسران و ملازمین کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کی کٹوتی کی مد میں جمع ہونے والی کروڑوں روپے کی رقم کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں گئی اور افسران کی تنخواہ سے منہا کیا جانے والا انکم ٹیکس متعلقہ ادارے کے اکاؤنٹ میں جمع کیے جانے کے بعد ملنے والا ادائیگی کا چالان تاحال نہیں دیا گیا جس سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افسران کی تنخواہوں سے منہا کی جانے والی رقم خوردبرد کر کے ذاتی مفاد میں استعمال کرلی گئی ہے اور اس حوالے سے کئی افسران نے باضابطہ طور پر انکم ٹیکس رقم کی ادائیگی کا چالان دیے جانے کے لیے تحریری درخواست بھی جمع کرائی ہے تاہم انھیں ادائیگی کا چالان نہیں دیا جا سکا جس کے باعث بلدیہ وسطی کے افسران شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ وسطی کے سابق اکاؤنٹس افسر نے ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر کو حقیقت سے لاعلم رکھ کر مبینہ طور پر رقم خوردبرد کرلی ہے تاکہ کسی بھی انکوائری کے سلسلے میں ان سے بھی باز پرس کی جائے، ذرائع کے مطابق اکاؤنٹس آفیسر کی جانب سے ادائیگی کے حوالے سے ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر کو یہ بتانا ضروری ہوتا کہ ان کے پاس کتنا فنڈ ہے اور وہ طلب کی جانے والی رقم کس اکاؤنٹ سے دی جا رہی ہے تاہم لوٹ مار کے کھیل میں رقم کا ہونا ضروری ہے، چاہے کسی بھی اکاؤنٹ سے جاری کر دی جائے چاہے انکم ٹیکس کی کٹوتی کی رقم ہی کیوں نہ ہو۔

بلدیہ وسطی کے ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس کی رقم میں خوردبرد کے حوالے سے افسران نے ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے افسران کی جانب سے آپس میں مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ ان کی تنخواہوں سے منہا کی جانے والی انکم ٹیکس کی رقم کا نہ صرف سراغ لگایا جا سکے بلکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے قرار واقعی سزا بھی دلائی جائے۔