آئی ایس پی آر کی بریفنگ

اگر سیاست دان ہوش مندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں تو دھرنوں کا بحران بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔


Editorial September 14, 2014
اگر سیاست دان ہوش مندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں تو دھرنوں کا بحران بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس نیوز/فائل

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجرجنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے آپریشن ضرب عضب اور موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے پاک فوج کی پوزیشن واضح کی۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاک فوج کا واضح مؤقف ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی طور پر حل کیا جائے، آئین کی پاسداری اور جمہوریت کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ سیاسی بحران سے فوج کا کوئی تعلق نہیں اور فوج نے اپنے طرزعمل سے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں چاہتی۔ سیاسی معاملات کے پیچھے ''اسکرپٹ رائٹر'' والی بات پر افسوس ہوا۔ موجودہ بحران کو سیاسی جماعتوں نے ہی حل کرنا ہے جب کہ آرمی چیف واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ آئین اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، سہولت کاری کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا، فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں مدد کی، فوج میں اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں، آپریشن ضرب عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہیں، ان کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا رہے ہیں، فوج کی توجہ آپریشن ضرب عضب اور سیلاب متاثرین پر ہے جب کہ سیاسی بحران کو فوج کے ساتھ جوڑنا نامناسب ہے، سیاسی بحران جب بھی حل ہونا ہے، سیاسی جماعتوں نے ہی حل کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج ریڈ زون میں عمارتوں کی حفاظت کے لیے آئی تھی اور پی ٹی وی ہیڈکوارٹر کا تحفظ فوج کی ذمے داری نہیں تھی۔

فوج آرمی چیف کی قیادت میں متحد ہے، ترقی، تقرری اور ریٹائرمنٹ روٹین کا کام ہے، ضروری نہیں فوج ہر چیز کی وضاحت کرے، مفروضوں پر مبنی باتوں سے فضاء خراب ہوتی ہے، میڈیا مسترد کر دیا کرے۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک میکینزم بنایا گیا تھا جس کے تحت ابھی تک 2 ہزار 200 سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں 45 خطرناک دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور تقریباً 134 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھرپور پریس بریفنگ میں حالیہ دنوں میں پاک فوج کے بارے میں ہونے والی چہ مگوئیوں اور بعض میڈیا رپورٹس کی پوری صراحت کے ساتھ وضاحت کر دی گئی ہے۔ جب سے اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے دھرنے دیے ہیں اس وقت سے بعض حلقے بڑے تسلسل کے ساتھ اس معاملے میں پاک فوج کو گھسیٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ میڈیا میں بعض ایسی اطلاعات بھی شائع ہوئیں جن کا مقصد صورت حال کو مزید کنفیوز بنانا تھا۔ اصولی طور پر اس سیاسی بحران میں پاک فوج کو گھسیٹنا نہیں چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ موجودہ بحران سیاسی ہے اور اسے سیاسی جماعتوں نے ہی حل کرنا ہے۔ اسلام آباد میں دھرنوں کو ایک ماہ کا عرصہ ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران فریقین میں بات چیت کا عمل بھی جاری رہا' سیاست دان آپس میں ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس بھی جاری رہا لیکن یہ بحران کسی طرح بھی حل نہیں ہو سکا۔ اس میں ناکامی کس کی ہے۔ پاک فوج کو اس معاملہ میں لانا یا اس کے بارے میں اشاروں کنایوں میں ایسی باتیں کرنا جن سے ایسا تاثر پیدا ہو جیسے دھرنوں کے پس پردہ فوج کارفرما ہے،یا فوج میں کوئی اختلاف ہے کسی طور بھی درست نہیں ہے اور نہ ہی اس سے جمہوریت کی کوئی خدمت کی جا رہی ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی قوتیں مکمل طور پر بااختیار ہیں۔ وہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے مذاکرات کرنے میں آزاد ہیں۔ اس طرح تحریک انصاف اور عوامی تحریک بھی اپنے معاملات میں آزاد ہیں۔ اگر یہ بحران جاری ہے تو اس کی ذمے داری تمام سیاسی فریقین پر ہے۔

اگر سیاست دان ہوش مندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں تو دھرنوں کا بحران بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاک فوج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض بخوبی انجام دے رہی ہے۔ اسلام آباد میں پاک فوج کے ذمہ جو ڈیوٹی لگائی گئی وہ اس نے کامیابی سے انجام دی۔ اب ملک میں سیلاب آیا ہے۔ یہاں بھی پاک فوج اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن بھی کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ تھا جو ختم کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج اب بھی آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فوج کی توجہ آپریشن ضرب عضب اور سیلاب متاثرین پر ہے۔ انھوں نے فوج کو اسکرپٹ رائٹر کے طور پر بیان کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی بے بنیاد باتیں تکلیف دہ ہیں۔

واقعی ایسی باتوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ پاک فوج ملک کے اتحاد اور دفاع کی ضامن ہے۔ اسے سیاسی معاملات میں ملوث کرنا یا اس کے بارے میں پراپیگنڈا کرنا حب الوطنی نہیں ہے۔ وطن عزیز انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ شمال مغرب میں بھی خطرہ ہے اور مشرق کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اسے ہر صورت میں کامیاب بنایا جانا چاہیے۔

ادھر آئی ڈی پیز کا مسئلہ ہے لہٰذا ان حالات میں پاک فوج کے بارے میں بلاجواز باتیں کرنا یا اشارے کنایے میں بات کرنا سیاسی بالغ نظری ہے نہ ملک و قوم کے مفاد میں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قوتیں اپنی ذمے داری خود پوری کریں اور حالیہ بحران کو پرامن طریقے سے جلد ازجلد حل کرنے کا انتظام کریں تاکہ ملک غیر یقینی صورت حال سے نکل سکے۔