لی مین مشکوک بولنگ ایکشن پرکریک ڈاؤن کے حامی

جو قانونی حد کے اندر نہیں اس کو کھیل سے باہر کرنا ہی بہتر ہے، آسٹریلوی کوچ کی رائے


Sports Desk September 15, 2014
جو قانونی حد کے اندر نہیں اس کو کھیل سے باہر کرنا ہی بہتر ہے، آسٹریلوی کوچ کی رائے۔ فوٹو: فائل

آسٹریلوی کوچ ڈیرن لی مین نے مشکوک ایکشن کے حامل بولرز کے خلاف آئی سی سی کے کریک ڈاؤن کی حمایت کردی۔

ان کا کہنا ہے کہ جو قانونی حد کے اندر نہیں اس کو کھیل سے باہر کرنا ہی بہتر ہے، دوسرے کھلاڑیوں کو بھی سخت پیغام مل چکا ہے، تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لی مین نے آئی سی سی کی جانب سے مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل بولرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہوئے اسے کھیل کیلیے بہترین قرار دیا ہے۔ رواں برس جولائی سے اب تک میچ آفیشلز 6 کھلاڑیوں کے بولنگ ایکشن مشکوک ہونے کی رپورٹ کرچکے جن میں پاکستان کے آف اسپنر سعید اجمل بھی شامل اور وہ پابندی کا بھی شکار ہوچکے ہیں۔

لی مین نے یہ معاملہ 2012-13 میں بگ بیش کے دوران بھی اٹھایا تھا خاص طور پر انھوں نے ویسٹ انڈیز کے مارلون سموئلز کے بولنگ انداز پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھایا تھا، سموئلز اس سے قبل آئی پی ایل کے دوران بھی مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے رپورٹ ہوچکے تھے۔

لی مین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے اس حوالے سے کریک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے جوکہ خود کھیل کیلیے بہترین ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس شعبے میں کچھ غلط نہ ہو، اگر آپ قانونی حد کے اندر رہتے ہوئے بولنگ کرتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کو کھیل سے باہرہونا چاہیے، اسی لیے آئی سی سی نے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور کچھ بولرز اس کی زد میں بھی آئے ہیں، کونسل کے اس اقدام نے نئے آنیوالے کھلاڑیوں پر بھی واضح کردیا ہے کہ وہ اس طرح کے ایکشن کی موجودگی میں آگے نہیں چل سکتے۔

ڈیرن لی مین نے ٹرائنگولر سیریز میں اپنی ٹیم کی پرفارمنس پر اطمینان ظاہر کیا جہاں پر اس کو میزبان زمبابوے کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ وہ فائنل میں جنوبی افریقہ سے بھی ہار گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ نتائج بہتر نہیں آئے مگر ہم اپنی پرفارمنس سے کافی مطمئن ہیں۔