دہشتگردی کے عفریت کا سامنا ہے

منی پاکستان ایک بار پھر تیزی سے دہشت گردی کے پراسرار اور الم ناک گرداب میں آچکا ہے۔۔۔


Editorial September 18, 2014
منی پاکستان ایک بار پھر تیزی سے دہشت گردی کے پراسرار اور الم ناک گرداب میں آچکا ہے. فوٹو: فائل

منی پاکستان ایک بار پھر تیزی سے دہشت گردی کے پراسرار اور الم ناک گرداب میں آچکا ہے ۔ایک طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سپر ہائی وے افغان بستی میں 7 طالبان ہلاک کردیے ، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر دہشتگردی کے مذموم منصوبہ کے ساتھ نقل و حمل میں مصروف تھے، ادھر گلشن اقبال میں جمعرات کی صبح ٹارگٹ کلنگ کی دلگداز واردات ہوئی جس میں موٹرسائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے جامعہ کراچی کے شعبہ مطالعہ اسلامیات کے سربراہ ممتاز اسکالر پروفیسر شکیل احمد اوج کو دن دھاڑے اندھا دھند فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جو علمی اور تحقیقی شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔

بلاشبہ ملک کو دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے، جب کہ آپریشن ضرب عضب کے تحت شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے بدھ کو فضائی حملوں میں 40دہشت گرد ہلاک کردیے جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں ، عسکری ذرایع نے بتایا ہے کہ ماضی میں شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ کے طور پر مشہور اس قبائلی علاقے کے 80 فیصد سے زائد حلقے کو کلیئر کرا لیا گیا ہے اور اس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ کامیابی کے اس تسلسل اور ٹمپو کو جاری رہنا چاہیے ۔ بدھ کو ہونے والے فضائی حملے میں دتہ خیل کے شمال میں نوے کلے اور زرم اثر نامی دیہات میں کیے گئے۔

ایک ہزار سے زائد شدت پسند ہلاک کردیے گئے ہیں ۔ بعض عسکریت پسند جن میں حافظ گل بہادر اور شہریار محسود جیسے بڑے کمانڈر بھی شامل ہیں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ افغانستان چلے گئے ہیں ۔ سپرہائی وے افغان بستی اور مچھرکالونی میں پولیس کی بھاری نفری اور حساس اداروں کے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے ملزمان کی عمریں28سے40سال کے درمیان ہیں اور ان کے پاس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے ان کی شناخت ہوسکے۔

حساس ادارے کی انٹیلی جینس رپورٹ تھی کہ افغان بستی میں ایک گھرمیں10 کے قریب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کارندے دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ یہ کارآمد اطلاع ثابت ہوئی ۔ دریں اثنا کابل میں طالبان اور افغان سٹیبلشمنٹ کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، جس میں 109 ہلاکتوں کے دعوے کیے جارہے ہیں، یوں خطے کے میدان جنگ بننے کے اندیشے حقیقت کا روپ دھارتے جارہے ہیں ۔ کراچی طالبان کا گڑھ بنتا جارہا ہے، یہ خطرے کی گھنٹی ہے، حکمرانوں کو مستقبل کے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مزید جارحانہ اور موثر دلیرانہ حکمت عملی بنانے میں دیر نہیں لگانی چاہیے ۔