سانحہ بلدیہ تحقیقاتی ٹریبونل اپنی رپورٹ کل پیش کرے گا

گواہوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں


Staff Reporter September 27, 2012
جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ٹریبونل سے حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوٹو: فائل

سانحہ بلدیہ کے تحقیقاتی ٹریبونل کے سربراہ جسٹس( ر ) زاہدقربان علوی نے کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میںکیمیکل ایگزامینیشن کی بھی سہولت موجود نہیں، پولیس کا شعبہ فارنسک بھی ناکارہ ہے۔

جبکہ شہری دفاع سمیت دیگر ادارے بھی صرف رسمی وجود رکھتے ہیں ،ٹریبونل کے سربراہ نے توقع ظاہر کی کہ تمام مشکلات کے باوجود28 ستمبر تک ٹریبونل کی رپورٹ مکمل کرلی جا ئے گی اور آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم کرنے میں بھی کامیابی ہوگی۔

رپورٹ عوام کے لیے شائع کرانے کی سفارش بھی کی جائیگی،گواہوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں، انھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ آگ گرائونڈ فلور اور دوسری منزل پر علیحدہ علیحدہ لگی ہوکیوں کہ درمیان کی ( پہلی )منزل پر آتشزدگی کے نشانات بہت کم ہیں۔

بدھ کو سماعت کے موقع پرسینئر میڈیکولیگل افسر جناح اسپتال ڈاکٹر جگدیش کمار، سینئر میڈیکولیگل افسرسول اسپتال ڈاکٹرعبدالحق ، شہری دفاع کے افسر زاہدعلی خان،فارنسک ماہرین انسپکٹر شاہد حسن خان ، انسپکٹر بشیر احمد اور فیکٹری کی4 خواتین ورکرزنے بیان قلمبندکرایا ، ڈاکٹرعبدالحق نے بتایا کہ انھوں نے سانحہ بلدیہ میں ہلاک ہونے والے متعدد افرادکی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا ۔

کچھ لاشیں ناقابل شناخت تھیں مگر کئی لاشوں پر معمولی زخم تھے، اکثر کی موت کاربن مونو آکسائید گیس کے باعث ہوئی جوآکسیجن کو ختم کردیتی ہے، انھوں نے ایک سوال پر بتایا کہ ربر جیسے کپڑوں کے جلنے سے بھی کاربن مونو آکسائیڈ پیدا ہوسکتی ہے۔

اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ فیکٹری میں لوگ دھویں کی زیادتی سے بیہوش اور بعد میں آگ کی لپیٹ میں آکر ہلاک ہوگئے ،جناح اسپتال کے سینئر میڈٖیکولیگل افسر ڈاکٹر جگدیش کمار نے ٹریبونل کو بتایا کہ سانحے کے روز جناح اسپتال میں 70لاشیں لائی گئیں جن میں سے اکثرمکمل طور پر جلی ہوئی تھیں،انھوں نے بتایا کہ موت کی وجہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بنی۔

ٹریبونل کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ یہ محض مفروضہ ہے کیوں کہ کراچی میں کیمیکل ایگزامینیشن کی سہولت موجود نہیں، ڈاکٹرعبدالحق نے بھی ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹس بھی مفروضے کی بنیاد پرتیار کی گئی ہے ،انھوں نے کہا کہ اگر ایسی لیبارٹری ہوتی تو آگ میں کیمیکل کے اثرات کا علم ہوسکتا تھا۔

ٹریبونل کے سربراہ جسٹس( ر ) زاہد قربان علوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات افسوس اور تشویش کا باعث ہے کہ اتنے بڑے شہر میںکیمیکل ایگزامینیشن کی بھی سہولت موجود نہیں ، کوئی ادارہ اپنی ذمے داری ادا کرنے کو تیار نہیں، شعبہ فارنسک کے انسپکٹر شاہد حسن خان نے بتایا کہ وہ سانحہ بلدیہ ٹائون سے متعلق کوئی رائے نہیں دے سکتے۔

ایس ایس پی فرہاج بخاری بیرون ملک ہیں اور رپورٹس ان کے ہی پاس ہیں ، جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ٹریبونل سے حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔