سیٹلائٹ سسٹم ’’جی این ایس ایس‘‘ اگلے سال متحرک ہوجائیگا

جی این ایس ایس ایک جدید وفعال سیٹلائٹ سسٹم ہے جو مختلف شعبوں کیلیے ناگزیر ہے


Staff Reporter September 27, 2012
اس سسٹم کے ذریعے زراعت، شپنگ، فشریز ، کارگو، موسمیات ، ایوی ایشن، خلائی اور دفاعی امور کیلیے محل وقوع کی بروقت معلومات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ فوٹو: فائل

GALLE: پاکستان میں حکومت چین کے تعاون سے اگلے سال دسمبر تک گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (جی این ایس ایس) پر عملدرآمد شروع کردیا جائیگا۔

اس سسٹم کے ذریعے زراعت، شپنگ، فشریز ، کارگو، موسمیات ، ایوی ایشن، خلائی اور دفاعی امور کیلیے محل وقوع کی بروقت معلومات کی فراہمی ممکن ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار سپارکو کے ممبر رینج اینڈ انسٹرومینٹیشن ایاز عزیز نے چائنا سیٹلائٹ نیویگیشن آفس کے زیر انتظام بے ڈیو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کی نمائش کے موقع پر نمائندہ ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت سپارکو امریکا کے گلوبل پروٹوکول سسٹم کے ذریعے سیٹلائٹ انفارمیشن حاصل کررہا ہے تاہم جی این ایس ایس ایک جدید وفعال سیٹلائٹ سسٹم ہے جو مختلف شعبوں کیلیے ناگزیر ہے۔

جی این ایس ایس کے ذریعے نہ صرف ملک میں معاشی ترقی ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دیگر امور کیلیے نقشہ جات اور ٖفضائی معلومات مہیا ہونگی جبکہ سیلاب کی پیش گوئی اور گلیشیئرز کا ڈیٹا بھی مہیا کیا.