گورنر نے شارع پاکستان پر دوسرے فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا

ڈاکخانہ انٹر سیکشن فلائی اوور کی تعمیر کا بھی اسی ہفتے آغاز کردیا جائیگا


Staff Reporter September 27, 2012
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد شاہراہ پاکستان پرواٹر پمپ فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں، صوبائی وزیر رضا ہارون بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی میں بیک وقت تعمیر ہونے والے 8میں سے دوسرے فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

واٹر پمپ چورنگی شاہراہ پاکستان پر یہ فلائی اوور 4سے 6 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے بدھ کو واٹر پمپ چورنگی شاہراہ پاکستان پر383ملین روپے کی لاگت سے بننے والے فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا کہ واٹر پمپ چورنگی انٹرسیکشن ایک اہم مقام ہے یہاں سے نہ صرف سہراب گوٹھ سے آنے والا ٹریفک گزرتا ہے۔

بلکہ گلبرگ، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی سے آنے اور جانے والی گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد اس انٹرسیکشن سے گزرتی ہیں، فلائی اوور کی تعمیر کے بعد ٹریفک کی روانی نہ صرف بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون، بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز الطاف جی میمن، پروجیکٹ ڈائریکٹر سید محمد طحہٰ اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے، انھوں نے کہا کہ کراچی میں بیک وقت8 فلائی اوورز کے کاموں کا آغاز کیا جارہا ہے۔

جن میں سے چار فلائی اوورز شاہراہ پاکستان پر تعمیر کیے جائیں گے جن میں سے دوسرے فلائی اوور کا آج سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، جناح ٹرمینل فلائی اوور اور عائشہ منزل فلائی اوور پر کام تیزی سے جاری ہے اور ان دونوں فلائی اوورز کو وقت مقررہ پر مکمل کرلیا جائیگا، گورنر سندھ نے ہدایت کی کہ فلائی اوور پر بغیر کسی تعطل کے24گھنٹے کام کیا جائے۔

جبکہ سروس روڈ کو فوری مکمل کرکے ٹریفک کو ڈائی ورژن فراہم کیا جائے، انھوں نے کہا کہ فلائی اوورز کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ شہریوں کو کم سے کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑے، اس موقع پر گورنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فلائی اوور میں8 اسپین(Span) اور64 گارڈر (Girder) اور 112پائیلس(Piles) تعمیر کیے جائیں گے۔

اس فلائی اوور کی کل لمبائی460میٹر ہوگی، فلائی اوور کی تعمیر کے دوران شہریوںکو تکلیف سے بچانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈاکخانہ انٹر سیکشن فلائی اوور کی تعمیر کا بھی اسی ہفتے آغاز کردیا جائے گا جس پر لاگت کا تخمینہ 472 ملین روپے ہے۔

جبکہ تین ہٹی انٹرسیکشن پر بھی فلائی اوور کی تعمیر پر266.65 روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تین ہٹی انٹرسیکشن شہر کے وسطی علاقے کی شہ رگ ہے جس پر لسبیلہ ، لیاقت آباد ، مارٹن روڈ ، پیرکالونی ، شارع فیصل ، گلشن اقبال اور دیگر علاقوں کی ٹریفک گزرتی ہے۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی سے ڈیڈ لاک کے حوالے سے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہیں اور جلد ہی یہ ڈیڈ لاک ختم ہوجائے گا، گورنر سندھ نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے صوبائی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔