جامع سیکیورٹی حکمت عملی ناگزیر

دہشت گردی سے نبرد آزما وطن عزیز کو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے ....


Editorial September 24, 2014
دہشت گردی سے نبرد آزما وطن عزیز کو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے۔ فوٹو : فائل

پشاور پریس کلب کے قریب شیرشاہ سوری روڈ پر فرنٹیئرکور(ایف سی )کے قافلے پر خودکش کار بم دھماکہ میں ایک اہلکار سمیت5افراد شہید اور29کے قریب زخمی ہوگئے جن میں متعدد ایف سی اہلکار شامل ہیں ۔ حملہ آور نے خود گاڑی چلاتے ہوئے ایف سی کے قافلے کو نشانہ بنایا، 45کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا،خودکش حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کرلی ہے۔

دہشت گردی سے نبرد آزما وطن عزیز کو سخت آزمائشوں کا سامنا ہے، انتہا پسند خوف و ہراس، بربادی اور بے یقینی کی دھند میں قوم کے سارے خوابوں کو ملیامیٹ کرنے کی اندھی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ پشاور میں ایف سی قافلہ پر وحشیانہ حملہ ایک انتباہ ، سنبھلنے کا لمحہ اور دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی تنظیم نو کا تقاضا کرتی ہے ۔ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتوں نے حقیقت میں شکست خوردگی، مایوسی ،جھنجھلاہٹ اور بوکھلاہٹ میں حملوں کا سلسلہ شروع کر کے غالباً اپنے ''ہونے'' کا پیغام دینے کی بھونڈی اور انسانیت سوز کوشش کی ہے ، ایک بیان میں طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ مذکورہ حملہ3ساتھی کمانڈروں کے قتل کا ردعمل ہے ۔ لیکن یہ رد عمل در اصل ان کی جماعتی و گروہی صفوں میں پیدا ہونے والے ناقابل یقین اور تباہ کن دراڑ کی غمازی کرتا ہے۔

دہشت گرد اہم سرکاری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بے منزل دیوانگی کا شکار رہیں گے،اس لیے سیکیورٹی محاذ پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے دنوں پاک بحریہ کے ڈاک یارڈ پر بعض بیرونی اور داخلی عناصر نے مشترکہ کارروائی کی مگر ناکام رہے، پاک بحریہ کے مستعد اور الرٹ فورسز نے کئی ملزمان گرفتار کرلیے ہیں جن کے خلاف اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہے مگر بنیادی سوال دہشت گردوں کے منظم حملوں کے خطرہ کی روک تھام کا ہے، یاد رہے جب شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ ہوا تھا تو ان ہی کالموں میں دہشت گردوں کی طر ف سے ممکنہ حملوں اور دہشت گردی کے خطرات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ارباب حکومت کو خبردار کیا گیا تھا ۔اب یہ چیز کھل کر سامنے آگئی ۔ پاکستان تحریک طالبان کی طرف سے حملوں کا اب بھی خطرہ موجود ہے ۔

اگرچہ پورا علاقہ سیل ہے ، اس لیے کسی دہشت گرد ، ان کے ماسٹر مائنڈ اور طالبان کمانڈر کے افغانستان فرار ہونے کی اطلاع گمراہ کن ہے، تاہم پھر سے دہشت گردی کے واقعات تشویش ناک ہے۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کو بیخ وبنیاد سے اکھیڑنے کے فیصلہ کن آپریشن میں مصروف ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لیے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ''ضرب عضب'' کے دوران ہونے والی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جامع سیکیورٹی حکمت عملی کے تحت ملک بھر سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا ۔ آئی ایس پی آر نے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔

علاوہ ازیں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کورکمانڈروں کا اجلاس یکم اکتوبر کو طلب کر لیا ہے جس میں فوج کے پیشہ ورانہ امور اور آپریشن ضرب عضب کی پیشرفت کے علاوہ چار ریٹائرڈ کور کمانڈرز کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ پرویزخٹک نے دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اور زخمی افراد کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے شہید پیکیج کے تحت معاوضوں کا اعلان بھی کیا جس کے تحت شہدا کے ورثا کو پانچ پانچ لاکھ جب کہ زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔

ادھر شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے فوجی آپریشن ''ضرب عضب'' کامیابی سے جاری ہے منگل کو ہونے والی فضائی کارروائی میں مزید 19دہشت گرد ہلاک کردیے گئے ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے غلام خان کے قریب ڈنڈی کچکول اور شت زیارت کے قریب گربز اور مانا نامی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایاگیا ،جن میں 19دہشت گرد ہلاک کردیے گئے ۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کو101روزمکمل ہوگئے ہیں ۔تیراہ سے نقل مکانی کرنیوالے متاثرین کی واپسی دو دن کے لیے موخرکردی گئی ، واپسی کل سے شروع ہوگی۔

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گورنرخیبرپختونخوا کی ہدایت کے مطابق تیراہ سے نقل مکانی کرنیوالے متاثرین کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پولیٹیکل انتظامیہ ایف ڈی ایم اے کے تعاون سے اقدامات کر رہی ہے ۔ تیراہ واپسی کے لیے منگل کوکا تعین کیا گیا تھا تاہم چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر ان کی واپسی نہیں ہو سکی اور اس میں دو دن کی تاخیرکی گئی تاکہ متاثرین کی واپسی کے لیے بہتر انتظامات کیے جا سکیں ۔

عالمی شہرت یافتہ ادیب آلبرٹ کامیو نے کہا ہے کہ''امن ہی وہ جنگ ہے جو ہر قیمت پر لڑی جانے کے قابل ہے۔'' پاکستان کو ہمہ جہتی داخلی ، علاقائی اور عالمی چیلنجز درپیش ہیں، فوج کا ایک ''پیس میکنگ'' کردار بھی فاٹا سے جڑا ہوا ہے ، آئی ڈی پیز کا انسانی مسئلہ حکومت اور فوج کے مابین اشتراک کار اور فکر وعمل کی ہم آہنگی کے حوالہ سے مثالی ہے ، عسکری قیادت نے جمہوریت سے تجدید عہد کا سنگ میل عبور کیا ہے، اس لیے دہشت گرد اطمینان رکھیں کہ وہ امن کے قیام اور چیلنجوں سے نمٹنے میں سویلین اور عسکری عزم کو کبھی متزلزل نہیں کرسکیں گے ۔