شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ

پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ...


Editorial September 25, 2014
پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں بدھ کو امریکی ڈرون طیاروں کے حملے میں 11 مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے،جن میں ازبک باشندے بھی شامل ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس حملے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان سمجھتی ہے کہ ایسے وقت میں جب پاک فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے ڈرون حملوں کی کوئی ضرورت نہیں' ہم چاہتے ہیں کہ ایسے حملے روکے جائیں۔

پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ جب شمالی وزیرستان میں پاک افواج دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہیں تو ایسی صورت میں امریکی ڈرون حملوں سے پاکستان کی مدد نہیں ہو گی بلکہ اس کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ اس حملے میں ازبک باشندوں کی ہلاکت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس علاقے میں ابھی تک ازبک جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ازبک جنگجو بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ پاک فوج کو بھی بخوبی ادراک ہے کہ جب تک اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک نہیں کیا جائے گا اندرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں کے خطرات بدستور موجود رہیں گے لہٰذا ملکی امن و امان اور سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث جب ان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تو اس وقت یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ دہشت گرد ردعمل کے طور پر اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں اور ایسا ہوا بھی۔ دہشت گردوں نے کراچی اور پشاور میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں جن کا مقصد سیکیورٹی اداروں کے عزم کو متزلزل کرنا تھا لیکن سیکیورٹی ادارے ان کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گلگت کے دورے کے موقعے پر افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کی شاندار روایات کے مطابق خدمات سر انجام دیں۔ پاک فوج نے ہر مشکل موقع پر اندرون اور بیرون ملک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

جہاں انھوں نے سرحدوں کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دیں وہاں انھوں نے داخلی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس وقت سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بھی وہ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے بدھ کو رسالپور اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاک فضائیہ نہ صرف بیرونی خطرات سے فضائی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ آپریشن ضرب عضب کے دوران ملک دشمن عناصر پر کاری ضرب لگانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اسی طرح ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار پاک فضائیہ مشکلات اور مصائب میں گھرے لوگوں کی مدد کے لیے کی جانیوالی قومی کاوشوں میں ہمیشہ شامل رہی ہے چاہے وہ زلزلہ زدگان اور سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی کوششیں ہوں یا آئی ڈی پیز بھائیوں کی مدد ہو۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں مل رہی ہیں اب تک دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے تباہ اور دھماکہ خیز مواد بنانے والی متعدد فیکٹریاں پکڑی جا چکی ہیں۔ امریکا اپنے تئیں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے تو کر رہا ہے مگر افغانستان میں موجود بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے خلاف اس کی کارروائیاں موثر ثابت نہیں ہو رہیں اور دہشت گرد امریکی اور نیٹو فورسز کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکا نے پاکستان میں اس سال 11 جون کو ایک طویل تعطل کے بعد ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہ رواں برس امریکی جاسوس طیاروں کا ساتواں حملہ ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکی ڈرون حملوں میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک ہوئی ہے مگر دوسری جانب ان حملوں سے پاکستان کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ امریکا یہ حملے خود کرنے کے بجائے پاکستان سے انٹیلی جنس معلومات شیئر کرے تاکہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف خود کارروائی کریں۔ اس خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پاکستانی فورسز اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں مگر افغان حکومت نے پاکستان سے تعاون کرنے کے بجائے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب نئے افغان صدر کو الزامات کی اس پالیسی کے بجائے تعاون کی پالیسی اپنانا ہو گی۔

امریکا' نیٹو فورسز افغانستان اور پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم پر کوششیں کرنا ہوں گی' کسی قسم کی الزام تراشی یا بداعتمادی کی فضا دہشت گردی کی تقویت کا باعث بنے گی۔ پاکستان کے احتجاج کے باوجود امریکا ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اسے اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکا سے اس مسئلے کو پورے شد و مد سے اٹھائے کیونکہ صرف احتجاج کرنے سے بات نہیں بن رہی۔