کراچیقانون کی حکمرانی ہونی چاہیے

فاروق اعوان تیسری بار قاتلانہ حملہ میں محفوظ رہے ہیں ...


Editorial September 27, 2014
فاروق اعوان تیسری بار قاتلانہ حملہ میں محفوظ رہے ہیں...۔ فوٹو: اے پی پی

منی پاکستان کراچی میں دہشت گردی کی جاری لہر کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں، جب کہ ٹارگٹ کلنگ کی الگ وارداتوں میں6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ دہشت گردی کی تازہ واردات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ڈیفنس فیز4 میں رات تقریباً نو بجکر5 منٹ پر اس وقت ہوئی جب گزری قبرستان کے قریب اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس پی فاروق اعوان خوفناک بم دھماکہ میں بال بال بچ گئے۔

فاروق اعوان تیسری بار قاتلانہ حملہ میں محفوظ رہے ہیں۔ دہشت گرد اس سے قبل دو سینئر پولیس افسران چوہدری اسلم اور شفیق تنولی کو بم دھماکوں میں شہید کر چکے ہیں۔ ان دونوں کو قتل کرنے کی ذمے داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

دہشت گردی کی حالیہ اس واردات کا تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ شہر مین ایم کیو ایم کے دھرنے جاری تھے اور دہشت گرد نیٹ ورک کو پولیس فورس اور رینجرز کی تعیناتی کا اچھی طرح ادراک تھا اور بلاسٹ ٹائمنگ بھی ہولناک حد تک غیر معمولی تھی تاہم ان کا نشانہ خطا ہو گیا۔

یوں شہر میں دہشت گردی اور دھرنوں کی وجہ سے شہریوں کے اعصاب کا شل ہونا فطری ہے، منی پاکستان کی کسمپرسی اور بد نصیبی اب سیاسی یتیمی کا استعارہ بن گئی ہے، ایک طرف دہشت گرد اور ٹارگٹ کلر اس شہر کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں دوسری طرف سندھ حکومت امن کے قیام کی کوششوں میں ہنوز مصروف ہے، یوں منی پاکستان سیاسی شراکت کاروں کے اثر و رسوخ کے باوجود سماجی، معاشی، ثقافتی اور اعصابی طور پر ایک نیم جاں میٹروپولیٹن کی شکل اختیار کر چکا ہے جسے بلدیاتی، سیاسی، معاشی، سماجی، تاریخی، مسلکی، لسانی اور فرقہ وارانہ مسائل اور داخلی تضادات نے دیدہ عبرت نگاہ بنا دیا ہے چنانچہ ارباب اختیار کی سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کو جو اقتصادی طور پر ملکی معیشت کا انجن اور اس کی شہ رگ ہے کس طرح بحران سے نکالیں اور سیاسی جماعتوں کے اشتراک عمل سے اسے رشک جنت بنائیں۔ آج کا کراچی بدامنی کا شہر ہے جو غیر محسوس طریقے سے اللہ نہ کرے خانہ جنگی کے خوفناک اندھیروں میں بھی گم ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی کے واقعہ کے حوالہ سے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے ایس پی فاروق اعوان کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو جائے وقوعہ اور اس کے کچھ فاصلے پر لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد سے دھماکے میں ملوث ملزمان کا سراغ لگائے گی جب کہ پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب سے متعدد افراد کو شک کی بنا پر حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ مگر اصل ہدف دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کا تعاقب اور ان کی فوری گرفتاری ہے، صرف ان کی نہیں بلکہ ممتاز علمائے کرام، نابغہ روزگار اسکالرز، ڈاکٹرز اور عام شہریوں کے قاتل ہیں ان پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔

لیاری میں بیگناہ محنت کشوں اور کم سن لڑکوں کی خاموش گرفتاریوں اور ہلاکتوں کا بھی نوٹس لیا جائے، جس طرح کراچی میں ساوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کے قتل میں ملوث چار ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے جس کے بارے میں ایڈیشنل آئی جی کا کہنا ہے کہ زہر ہ شاہد کا قتل ٹارگٹ کلنگ تھی۔ تاہم سب سے انصاف ہونا شرط ہے، مگر جب تک بلا امتیاز کارروائی نہیں ہو گی، قانون کی بالا دستی اور حکومتی رٹ کراچی میں قائم نہیں ہو گی، شہر قائد میں انسانیت منہ چھپا کر روتی رہیگی۔ اسی لیے ہم امید کرتے ہیں کہ مختلف جرائم میں ملوث افراد کا معاملہ انصاف کی چھلنی میں سے گزارا جائے تا کہ کسی کو بدنیتی، ظلم اور انتقام کی شکایت نہ ہو۔ جہاں تک دھرنوں کا تعلق ہے تو دھرنا کلچر قابل برداشت ہونا چاہیے، یہ نیا سیاسی رویہ مایوس کن حکمرانی کے خلاف عوامی رد عمل ہے، لیکن ساتھ ہی ہم ایم کیو ایم کی قیادت اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی التماس کریں گے کہ وہ منی پاکستان کی حالت زار کو بھی پیش نظر رکھیں۔ اپنے اندر کے دشمن کو پہچانیں۔

یہ فیصلہ لائق تعریف اور خوش آیند ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے رات گئے تک وفاقی اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام سے پس پردہ مذاکرات جاری رکھنے اور اپنے جائز مطالبات منوانے کے بعد دھرنے ختم کر دیے، لیکن متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے اس استدلال اور شکوہ کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ رینجرز صرف ایم کیوایم کے دفاتر پر چھاپے مار کر بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے، تمام جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں تو دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے گھرگھر چھاپے کیوں نہیں مارے جاتے؟ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب کمیٹی نہیں کمٹمنٹ کی ضرورت ہے، لسانیت کے خاتمے کے لیے ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک دن کے دھرنے سے کراچی میں معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

سیاست میں صبر و تحمل اور جمہوری اسپرٹ ہو تو کوئی ایشو ایشو نہیں رہتا۔ کاش ایسی ہی حکمت عملی اسلام آباد کے دھرنوں کے بارے میں بھی اختیار کی جاتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کراچی سمیت پورے ملک سے غیر قانونی اسلحہ کی بازیابی کا کوئی قابل عمل میکنزم وضع کیا جائے، اسلحہ جمہوریت دشمن رویہ کی آبیاری کرتا ہے جب کہ اپنے دفاع کے لیے امن پسند شہریوں کو اسلحہ کے لائسنس کے اجراء کی پالیسی میں صد فی صد شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اگلے روز قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سفارش کی کہ حکومت اسلحہ لائسنس پر عائد پابندی اٹھائے جب کہ کراچی میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر وضاحت کے لیے ڈی جی رینجرز کو 29 ستمبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا، ادھر خفیہ ادارے کی جانب سے ایک پریشان کن رپورٹ میں ایسے جنگجو عناصر کے ایک اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جہاد کے نام پر کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے20 یونٹ تشکیل دیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا جن میںسے7یونٹ عسکری اداروں سے جنگ کریں گے5 یونٹ فوجی آپریشن سے متاثرہ نیٹ ورک مضبوط کریں گے جب کہ 6 یونٹ مختلف شہروں میں مسلح کارروائیاں عمل میں لائیں گے۔

یاد رہے نائن الیون کے امکانی خطرہ سے بش انتظامیہ کو ایک مراسلہ میں پیشگی آگاہ کیا گیا تھا مگر وہاں بھی رات گئی بات گئی والی کہانی ہو گئی تھی۔ مگر پھر کیا ہوا۔ اس کا ادراک حکمراں آج کر لیں، دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو اس کے اہداف اور مذموم عزائم کے ساتھ تہس نہس کرنا وقت کا اولین تقاضہ ہے۔