سرکاری اسپتالوں میں دواؤں کا بحران شدت اختیار کر گیا

اسپتالوں میں دوائیں اور طبی سامان نہ ہونے سے کئی اموات ہوچکیں،ذرائع، محکمہ صحت پر120ملین کی رقم واجب الادا ہے،ٹھیکیدار


Staff Reporter September 30, 2014
اسپتالوں میں دوائیں اور طبی سامان نہ ہونے سے کئی اموات ہوچکیں ،ذرائع، محکمہ صحت پر120ملین کی رقم واجب الادا ہے، ٹھیکیدار ۔ فوٹو : فائل

محکمہ صحت کے تمام اسپتالوں میں دواؤں کا بحران شدت اختیارکرگیا ہے، سرکاری اسپتالوں میں جان بچانے والی دوائیں نہ ہونے سے2 دن میں کئی اموات رپورٹ ہوئی ہیں تاہم اسپتالوں کی انتظامیہ اموات کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں 2 ماہ سے دواؤں اورطبی سامان کی فراہمی معطل ہے، دوائیں سپلائی کرنے والے ٹھیکیداروں کی محکمہ صحت پر12 کروڑ روپے (120 ملین ) کی رقم واجب الادا ہے، وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد کا کہنا ہے اسپتالوں میں دوائیں موجود ہیں، جن ٹھیکیداروں کو دواؤں کی فراہمی کی رقم نہیں ملی وہ محکمہ کے اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر خالد شیخ سے رابطہ کریں، تفصیلات کے مطابق سول اسپتال، جناح اسپتال، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد، کورنگی، نیو کراچی، سعود آباد، ابراہیم حیدری اسپتال ، لیاری جنرل اسپتال میں دواؤں کا بحران شدت اختیار کرگیا۔

معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکیداروں نے بلوں کی عدم ادائیگی پر ان اسپتالوں میں اگست سے دواؤں اور طبی سامان کی فراہم مکمل طورپربند کردی ہے، ٹھیکیداروں کے مطابق محکمہ صحت پردواؤں اور طبی سامان کی فراہمی کی مد میں 12 کروڑ روپے واجب الاداہیں اوررقم کی ادائیگی کے لیے اے جی سندھ کے دفترکے چکر لگا رہے ہیں لیکن تاحال ادائیگیاں نہیں کی جارہی، دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ محکمہ خزانہ نے اے جی سندھ کوتاحال ادائیگیوں کی رقم منتقل نہیں کی ہے محکمہ صحت نے ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں کے سلسلے میں اے جی سندھ کو مکتوب لکھاہے لیکن ٹھیکیداروں کے تمام بلز رکے ہوئے ہیں۔

ادھر سول اسپتال، جناح اسپتال سمیت تمام اسپتالوں میں دوائیں اورآپریشن کا ضروری سامان نہ ہونے کی وجہ سے یومیہ درجنوں مریضوں کے آپریشن ملتوی کیے جارہے ہیں۔