اسلام آباد ڈونرز کانفرنس میں یقین دہانیاں

پاکستان میں یہ پانچواں سیلاب ہے جس سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔


Editorial October 05, 2014
پاکستان میں یہ پانچواں سیلاب ہے جس سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ فوٹو: فائل

گزشتہ روز وزیر اعظم آفس اسلام آباد میں سیلاب سے متاثرین اور تباہ شدہ املاک اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے لیے بین الاقوامی ڈونرزکانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، سعودی عرب، کویت، ملائشیا، کینیڈا، جاپان، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور عالمی بینک (ڈبلیو بی) سمیت دیگر ڈونر ممالک اور اداروں نے شرکت کی اور پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں امدادی رقوم کے صاف و شفاف استعمال کے لیے ڈونر ممالک اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی کہ سیلاب زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے ڈونر ممالک سے امداد کی وصولی اور اس کی ترسیل شفاف اور قابل احتساب نظام کے ذریعے ہو گی۔ماضی میں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں ملنے والی غیر ملکی امداد کے استعمال میں بدعنوانی کی بہت شکایات ملتی رہی ہیں جب کہ ان امدادی اشیا کی ملک کی مختلف مارکیٹوں میں کھلے عام فروخت کے منظر بھی لوگوں نے دیکھے ہیں اس وجہ سے شنید تھی کہ ڈونر ممالک اور ادارے اب امداد سے ہاتھ کھینچنے لگے ہیں تاہم اسلام آباد ڈونرز کانفرنس میں شریک ممالک نے امداد کی یقین دہانی کرا کے ان خدشات کا خاتمہ کر دیا ہے جو خوش آئند ہے۔

یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ انہیں پاکستان میں تسلسل کے ساتھ آنے والے سیلابوں اور اس سے ہونے والی تباہ کاریوں پر تشویش ہے۔ پاکستان میں یہ پانچواں سیلاب ہے جس سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ پاکستان میں سیلابوں کی یہ صورتحال پیشگی حفاظتی اقدامات کی متقاضی ہے۔ اصولاً تو ایک باوقار قوم کو تمام نقصانات اپنے طور پر ہی برداشت کرنے چاہئیں اور دست سوال اقوام عالم کے سامنے دراز نہیں کرنا چاہیے لیکن ہماری تو یہ عادت ہی بن گئی ہے موقع بہ موقع کشکول نکال لیتے ہیں۔ بہرحال اگر یہ امداد ایمانداری سے خرچ کی جائے تو سیلاب زدگان کی مشکلات بھی کم ہوں گی اور مستقبل میں سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات بھی ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔