تھانہ پاک کالونی پر عدالتی چھاپہ کھولیوں میں بند 7 بے گناہ شہری بازیاب

پولیس اسٹیشن میں قید شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج تھی اورنہ ہی روزنامچے میں اندراج تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے۔۔۔


Staff Reporter October 16, 2014
پسند کی شادی کرنے والے عامر کے بھائی کو پولیس نے پکڑا اور رہائی کے لیے رقم مانگی، درخواست گزار، مجسٹریٹ نے عمیر کی بازیابی کیلیے تھانے پر چھاپہ مارا تھا۔ فوٹو: فائل

سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے تھانہ پاک کالونی پرچھاپہ مار کر کھولیوں میں بند 7 شہریوں کو بازیاب کرکے فوری رہا کردیا، ذمے دار پولیس افسران کو عدالت میں طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی غلام مصطفی میمن نے امیر انیس کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری کو تھانہ پاک کالونی پر چھاپہ مارنے اور مغوی عمیر انیس کی بازیابی کا حکم دیا تھا، سیشن جج کے حکم پرجج نے مذکورہ تھانے پر چھاپہ مارا، حوالات سے متصل کھولیوں میں مغوی کے علاوہ مزید 9 افراد ارشد، انور، ندیم، عارف، امیر محمد، سلیمان، شاہد خان، شاکر، آصف اور مغوی انیس بند تھے۔

پولیس اہلکارنے بتایا کہ تین افراد کو چند منٹ قبل ہی تھانے لایا گیا ہے، ان کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی ہے دیگرمغویوں کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو ان کے خلاف ایف آئی آردرج تھی اور نہ ہی روزنامچے میں انٹری تھی، جج نے فوری طور پر مغوی سمیت 7 شہریوں کو رہا کردیا، ایس ایچ او اور ڈٰیوٹی افسر کو آج تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

قبل ازیں درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کے ایکٹ 491 کے تحت حبس بے جا کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے بیٹے عامر انیس نے 10 اکتوبر کو مسماۃ حفظہ سے پسند کی شادی کی تھی اس کے سسرالیوں نے پولیس سے ساز باز کرکے اس کے دوسرے بیٹے عمیر انیس کو گھر سے غیرقانونی حراست میں لیا اور تھانے کی حوالات میں بند کردیا، اس کی رہائی کے لیے بھاری رقم کا تقاضہ کیا ہے، درخواست میں بیٹے کی بازیابی کی استدعا کی تھی۔