قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکس رہیں

حقیقت میں منی پاکستان پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے جرائم کے گینگز کراچی میں پناہ گاہیں اور سلیپرز سیل بنائے ہوئے ہیں۔


Editorial October 21, 2014
منی پاکستان جرائم کے جنگل میں پھڑپھڑاتے ہوئے پرندہ کی طرح کب تک بقا کی جنگ لڑتا رہے گا, فوٹو فائل

منی پاکستان کے پر آشوب سیاسی ، سماجی اور معاشی منظر نامہ میں ایک اور درد ناک واقعے نے شہریوں کو اشکبار کردیا ۔ خبر یہ ہے کہ کھارادر میں واقع ایدھی ہیڈ آفس سے 8 مسلح ملزمان عبدالستار ایدھی اور ملازم خواتین کر یرغمال بنا کر5 کلو گرام سونا اور کروڑوں روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی لوٹ کر فرار ہو گئے ۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کا جلد سراغ لگا کر انھیں گرفتار کیا جائے ۔

ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس ایچ او کھارادر کو معطل کر کے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنا دی ۔ اولڈ ایریا کے اس قدیمی ایدھی سینٹر میں ڈکیتی نے ایک طرف تو پاکستان کے اقتصادی حب منی پاکستان میں رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جب کہ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے یہ لاقانونیت ، مجرمانہ وارداتوں کے لائسنس کا کھلا پیغام ہے کہ اس شہر میں جب بے لوث ، پر امن ، بے ضرر اور درویش منش ایدھی اور ان کا ادارہ محفوظ نہیں تو کوئی شریف آدمی کیونکر مجرمانہ گینگز کی چیرہ دستیوں اور ظالمانہ کارروائیوں سے بچ سکتا ہے ۔

کراچی مین امن وامان کی صورتحال خاصی مخدوش اور فتنہ انگیز بن گئی ہے، بظاہر پولیس اور رینجرز کے آپریشن سے ملزمان اور ٹارگٹ کلرز روپوشی اختیار کیے ہوئے ہیں مگر عملًا حقیقت کچھ پراسرار اور آسیب زدہ لگتی ہے، حالیہ دنوں میں بڑی مارکیٹوں ، بینکوں اور رہائشی علاقوں میں دن دہاڑے ڈکیتی اور بے تحاشہ اسٹریٹ کرائم کا جہنم سلگ رہا ہے، شہری قدم قدم پر لٹتے ہیں، جب کہ رینجرز اور پولیس غائب رہتی ہے، اور کہیں کہیں دونوں فورسز ایسی شاندار کارروائیاں کرتی ہیں کہ ملزمان ، گینگسٹرز اور ٹارگٹ کلرز گرفت میں بھی آجاتے ہیں لیکن امن پھر بھی منی پاکستان کے مقدر میں نہیں ہے ، کسی بدنام زمانہ ٹارگت کلر یا گینگسٹرکو عبرت ناک سزا نہیں ہوئی ، منظم جرائم کے باعث کراچی اسمگلروں ، قاتلوں ، رسہ گیروں، اور ڈکیتوں کا انٹرنیشنل شہر بن گیا ہے جہاں لاقانونیت ملکی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے، جب کہ معاشی مرکز ہونے کے ناتے کراچی کے واقعات ریاستی اور حکومتی سطح پر تشویش کی ملک گیر لہر پیدا کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں عدم استحکام پیدا کرنے کا ایک سبب غیرقانونی اسلحہ ہے ، اتوار کو فائرنگ کے واقعات میں بینک کے کیشیئر سمیت5 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوگئے ، ہر علاقہ ہیں دہشت گرد اور منشیات فروش ہرکولیس اور گولائتھ کے طور پر ابھرتے ہیں ، شہر کو یرغمال بناتے ہیں اور حکومتی رٹ کو مسلسل چیلنج کرتے رہتے ہیں ۔ کراچی کے اربن ڈیموفرافی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منی پاکستان کئی شہروں میں تقسیم ہوگیا ہے ، یہاں طالبان نے جڑیں مضبوط کی ہیں، دیگر کالعدم ، فرقہ وارانہ اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں اور خود ساختہ ایجنڈے بردار قوتیں اصل سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو بھی پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز بھی فعال ہیں ۔ سیاست نان ایشوز کی ہوگئی ہے ۔ کراچی پر قبضہ کی بے جواز اور جنون انگیز لڑائی عروج پر ہے ، دھرنوں کے ساتھ اب ملک میں جلسوں کی ریس شروع ہوئی ہے، گزشتہ روز کراچی میں پی پی کے جلسہ کے فوری بعد قومی متحدہ موومنٹ نے سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس کے باعث سیاسی موسم پھر سے گرم ہے ۔

جس میں ملک دشمن ، فتنہ انگیز قوتیں فاٹا میں پاک فوج کو آپریشن میں مصروف دیکھتے ہوئے دہشت گردی کا میدان کراچی میں منتقل کرنے کے لیے کسی بھی لمحہ فائدہ اٹھانے کی مہم جوئی کر سکتی ہیں ۔ وزیر اطلاعات سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم نے جذباتی فیصلہ کیا، قیادت کی مفاہمتی پالیسی کے باعث مجبور ہیں، ہم سب کوساتھ لے کرچلناچاہتے ہیں ، ہنگامی پریس کانفرنس میں انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی مفاہمت کوفروغ دینا چاہتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس پیغام کو نہیں سمجھا گیا ، امید ہے وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی، ادھر ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اپنا حق اور صوبہ لے کے رہیں گے ۔ صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کو مفاہمتی سیاست کا علمبردار کہا ہے ، چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو مفاہمت ،خیر سگالی، رواداری، صبر وتحمل اور کراچی کے مستقبل اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ملکی سالمیت کو لاحق غیر محسوس خطرات کا احساس کرنا چاہیے ۔

منی پاکستان جرائم کے جنگل میں پھڑپھڑاتے ہوئے پرندہ کی طرح کب تک بقا کی جنگ لڑتا رہے گا ۔ یہ ملک کے بھی مفاد میں نہیں ہے، ملکی معیشت کو ہولناک اندیشوں کاسامنا ہے، عالمی مالیاتی ادارے معاشی صورتحال پر تشویش ناک اشارے دے رہے ہیں ۔ مستقبل کے بارے میں سیاسی جماعتوں کو ایک فورم پر آنا چاہیے ۔ مصالحت وقت کا تقاضہ ہے ، منی پاکستان کی پہلے سے گمبھیر صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پر امن بقائے باہمی کا قابل قدر ماحول ناگزیر ہے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوکس اگرچہ جرائم کا خاتمہ ہے مگر سیاسی افراط و تفریط ، کشیدگی ، باہمی اختلافات اور محاذ آرائی کے شکل میں شہر کے اتحاد ، یکجہتی اور ملکی سلامتی کوخطرہ لاحق ہے۔ عالمی میڈیا کراچی کو خطرناک شہروں میں شامل کرچکا ہے۔

جہاں شہری جان ہتھلیوں پر لیے پھرتے ہیں ، حقیقت میں منی پاکستان پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے جرائم کے گینگز کراچی میں پناہ گاہیں اور سلیپرز سیل بنائے ہوئے ہیں ،ان کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں ۔ ایدھی سینٹر پر مسلح ملزمان کا ڈاکہ چشم کشا ہے۔ اس واقعہ کے پس پردہ محرکات اور جرائم پیشہ گروہوں کے اصل ٹھکانوں تک رسائی کے لیے عزم ، حوصلہ اور جارحانہ اسٹرٹیجی کی ضرورت ہے جسے بروئے کار لانے میں مزید انتظامی کوتاہی کی شہر کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی ۔ اس لیے اتفاق رائے ، اتحاد و قومی یکجہتی کے جذبہ سے منی پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کی مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید چوکسی کا مظاہر کریں ۔