تیس لاکھ طلبا تعلیمی ادارے چھوڑ گئے

سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بہتر نہیں رہا اور ان کے مقابلے میں نجی تعلیمی ادارے بہتر تعلیم دے رہے ہیں۔


Editorial October 21, 2014
خوشحال شہریوں کی اکثریت اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے سے احتراز برتی ہے۔ فوٹو: فائل

ایکسپریس کی خبر کے مطابق محکمہ تعلیم کی ناقص حکمت عملی کے باعث پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں سے اب تک مجموعی طور پر جماعت دہم تک کے تیس لاکھ طلباء اور طالبات نے اپنے نام خارج کرا لیے ہیں جس سے محکمہ تعلیم میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ حکمران طبقے کی جانب سے تعلیم کی اہمیت اور اس کے فروغ پر واویلا تو خوب مچایا جاتا' بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کی جاتیں اور تعلیم عام کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر حقیقت ان کے ان دعوئوں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت تسلی بخش نہیں۔

کہیں عمارت نہیں اور طلباء سخت سردی گرمی دھوپ اور بارش میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں تو کہیں مطلوبہ تعداد میں اساتذہ ہی موجود نہیں تو کہیں بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ عوامی سطح پر یہ سوچ تقویت پا چکی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم بہتر نہیں رہا اور ان کے مقابلے میں نجی تعلیمی ادارے بہتر تعلیم دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحال شہریوں کی اکثریت اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے سے احتراز برتی ہے۔

خبر کے مطابق دو سال قبل پنجاب بھر میں سرکاری اسکولوں کی انرولمنٹ ایک کروڑ دس لاکھ بتائی جاتی تھی جو اب کم ہو کر 80 لاکھ رہ گئی ہے۔ یہ تشویشناک امر ہے مگر حکومت کی جانب سے تمام حقائق کا بخوبی علم ہونے کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کی جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ حکومت اگر تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم بھی بلند کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ طلباء تعلیم حاصل کرنے کے بجائے تعلیمی ادارے چھوڑنے کو ترجیح دیں۔