بھارت میں پاکستان اور مسلم دشمنی کی فضا

کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کےمطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام پر جو ظلم ہو رہا ہے اسے بند کروایا جائے۔


Editorial October 26, 2014
کشمیری تنظیمیں بھی مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔ فوٹو فائل

HYDERABAD: بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت سے مسلم اور پاکستان دشمنی کو ہوا دینے کے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ اب اس کے جارحانہ رویے کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک جانب وہ سرحدی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں میں گولہ باری اور فائرنگ کر رہا ہے تو دوسری جانب بھارت انتہا پسند ہندوؤں کے مسلمانوں پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسے حل کرنے سے قطعی انکاری ہے اور اس نے اربوں ڈالر کے دفاعی منصوبوں کی منظوری دے کر اپنے جنگی جنون کا کھلم کھلا اظہار کر دیا ہے۔

آخر بھارتی حکومت اتنا اسلحہ کس کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں۔مبصرین کے مطابق بھارتی حکومت پاکستان اور چین کو دبائو میں لاکر خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی افواج نے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں بھی دینی شروع کر دیں۔ اس بھارتی جارحیت سے پاکستان کے درجنوں دیہات متاثر ہوئے، متعدد شہری شہید اور سیکڑوں بے گھر ہوگئے۔

پاکستانی حکومت نے بھارت کے اس جارحانہ رویے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مبصرین کو سرحدی علاقوں کا دورہ کرایا جنہوں نے وہاں ہونے والی تباہی کا مشاہدہ کیا۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھارتی حکومت سے کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا تو اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے بھارتی حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بجائے شملہ معاہدہ کے تحت باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

بھارتی حکومت مسلسل اسی موقف پر اڑی ہوئی ہے' بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی پارلیمنٹ کی طرف سے اقوام متحدہ کی مداخلت کی تجویز منظور کیے جانے کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیسرے فریق کا کسی بھی شکل میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر کا حل فریقین کے درمیان بات چیت سے ممکن ہے۔ بھارتی حکومت کے جارحانہ اور متعصبانہ رویے کو دیکھتے ہوئے کشمیری تنظیمیں بھی مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔

گزشتہ روز کشمیریوں نے لندن میں احتجاجی مارچ کیا جس کا مقصد بھارت پر دباؤ بڑھانا اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور یہ باور کرانا ہے کہ جنوبی ایشیا میں حقیقی اور پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے برطانیہ میں کشمیر ملین مارچ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں بھارت کے خلاف درپردہ جنگ ناقابل برداشت ہے۔

برطانوی حکومت نے بھارتی حکومت کے اس احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ حق اظہار رائے ہر شہری کا حق ہے حکومت کسی پر قدغن نہیں لگا سکتی۔ جس کے بعد بھارت کی طرف سے ملین مارچ رکوانے کی تمام سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ بھارت کو اپنے طریقے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں کرنے دینگے۔

انھوں نے واضح کر دیا کہ بھارت ہماری امن پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے اس کی جارحیت کا بھرپور جواب دے رہے ہیں' انھوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام پر جو ظلم ہو رہا ہے اسے بند کروایا جائے' مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں سفیر بھیجیں گے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں پاکستان اور بھارتی حکومت کے متضاد رویے سامنے آ رہے ہیں پاکستان اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دے رہا ہے جب کہ بھارتی حکومت اقوام متحدہ کو کسی بھی طور پر فریق بنانے کے لیے آمادہ نہیں۔

اب بات چیت کا عمل کیسے آگے بڑھتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ممالک کس نکتے پر متفق ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر ایک بات طے ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی کوششیں بار آور نہیں ہو سکتیں۔ بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی جنون اور خطے میں ہونے والے فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کروانے کا خبط اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مستقبل میں خطے کے حالات مزید خراب بھی ہو سکتے ہیں۔

بھارت کی انتہا پسند حکومت نے سوویت یونین دور کے پرانے اسلحہ کو جدید بنانے اور داخلی طور پر دفاعی پیداوار بڑھانے کے لیے 13.1 ارب ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ مودی حکومت آنے کے بعد انتہا پسند ہندوئوں کا مسلمانوں کے خلاف جنون بڑھتا جا رہا ہے' دہلی میں انتہا پسند ہندوئوں نے مسلم علاقے پر ہلہ بول دیا اور شدید پتھرائو کیا، نصف درجن سے زائد دکانیں نذر آتش کر دیں اور بازار لوٹ لیا۔ اگر اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں بھارتی حکمرانوں کے جارحانہ رویے سے یونہی صرف نظر کرتی رہیں تو مستقبل میں اس خطے کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔