معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک کیوں جائیں

ملک کو درپیش سیاسی بحران کا تسلسل اور اب سندھ میں پی پی اور ایم کیو ایم کے مابین شو ڈاؤن کسی طور ملکی مفاد میں نہیں۔


Editorial October 27, 2014
منی پاکستان میں سیاسی کشیدگی کا ظہور اور وہ بھی دو فطری حلیفوں میں ، کسی المیہ سے کم نہیں ، فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے ۔ ملک سے توانائی کا بحران ختم کرنے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔

جلسے کرنے اور دھرنے دینے والوں کو منتخب حکومت کی رٹ چیلنج کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ گزشتہ روز جاتی امرہ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت محرام الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کو ملی یکجہتی اورباہمی بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت مفاہمانہ پالیسی پر کاربند ہے اور آیندہ بھی اس پر کاربند رہے گی ۔

ملک اور اس کی شعلہ بار سیاست داخلی و خارجی محاذ پر جن آزمائشوں سے دوچار ہے اور ملکی سالمیت کو جو خطرات لاحق ہیں اس کے پیش نظر وزیراعظم نے مفاہمت کی جو بات کی ہے وہ خوش آیند اور عملیت پسندی کی دلیل ہے، اسی طرح آئین ، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جس خواہش کا انھوں نے اظہار کیا ہے اس کو بہر حال حقیقت میں بدلنے کے لیے جس غیر متزلزل سیاسی ارادہ، پختہ عزم اور مقدر ساز حوصلے کی ضرورت ہے وہ بھی ارباب اختیار کو سیاسی نظام کے بطن سے ابھارنی پڑے گی جب کہ موجودہ پر آشوب منظر نامہ کو ٹھوس عملی اقدامات اور دلیرانہ سیاسی پیش قدمی سے بلا تاخیر تبدیل کرنا ہوگا ۔

تاہم قومی امنگوں کے برعکس سیاسی اضطراب، کثیر جہتی کشیدگی،بے چینی،بے یقینی اور پر تشدد سیاسی کلچر کی نمود کے باعث اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ منی پاکستان میں پیدا شدہ صورتحال کا کافی و شافی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے جس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے، بھارتی کارروائیوں اور جارحانہ ڈپلومیسی کا جواب دینے ، عوام کو درپیش مسائل کے حل اور عالمی سطح پر ملک کا ایک نیا امیج ابھارنے کی کوششں بھی جاری رہنی چاہئیں ۔

موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے کوئی ذی شعور اور محب وطن پاکستانی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا اپنی ہوشربا سائنسی اور تکنیکی ترقی اور مستحکم سیاسی نظام کی داستانوں میں پاکستان کا ذکر کسی مثبت پیرائے میں کرتی ہو، ہاں، انفرادی کیسز میں ہمارا حوالہ کبھی ''بنت پاکستان'' ملالہ بنتی ہے اور کبھی آئی ٹی کے کم عمر ماہرین کے ذریعے ہمیں سرخروئی ملتی ہے مگر دشت ِسیاست میں ہمارے 18 کروڑ عوام بے دست و پا ہیں ، انھیں مسائل اور مایوس کن سیاسی افراتفری نے نیم جان کردیا ہے ۔ اسی لیے ہماری استدعا ارباب بست و کشاد اور ملک کی تمام سیاسی ، مذہبی ، دینی ، سماجی و فکری حلقوں اور سول سوسائٹی سے ہے کہ وہ حالات کا منطقی تجزیہ کریں ، ملک کو درپیش مسائل کا ٹھوس حل نکالیں ، اختلافات کو سیاسی نظام کا ناگزیر جمہوری حصہ سمجھتے ہوئے ان کو دور کرنے کی دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ تدبیر کریں ۔

بلا شبہ ان مجوزہ کوششوں ، اصلاح احوال اور وفاق کی جانب سے کی جانے والی مفاہمت کی طرف اہم قدم صوبہ سندھ میں اٹھانے کی فوری ضرورت ہے جہاں پی پی اور متحدہ میں بوجوہ محاذ آرائی میں مزید شدت کا اندیشہ ہے ۔ اتوار کو پیپلزپارٹی کے رہنما و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے لفظ مہاجر کے متعلق متنازع بیان پر ایم کیو ایم نے یوم سیاہ منایا، کراچی و سندھ کے دیگر شہروں میں کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے، اور زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوئے ۔ دھرنوں اور سیاسی جلسوں کے علاوہ منی پاکستان میں سیاسی کشیدگی کا ظہور اور وہ بھی دو فطری حلیفوں میں ، کسی المیہ سے کم نہیں ، اسے پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جانے دیا جائے، صلح صفائی کا کوئی لمحہ ضایع نہیں جانا چاہیے ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ملک دہشت گردی ، سیاسی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے خطرات، لا قانونیت اور جرائم و بد امنی کے اس متلاطم سمندر میں امن ، ترقی، خوش حالی قانون کی حکمرانی اور انصاف کے ساحل پر اترنا کسی معجزے سے کم نہ ہوگا ۔ چنانچہ حکومت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ مفاہمت، دو طرفہ بات چیت اور اصولوںپر مبنی ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کرے کہ سارے امور اور تنازعات ٹھنڈے دل و دماغ سے نمٹائے جا سکیں ، قومی سیاست کو اکھاڑا بنانے اور اس میں ''رستم وسہراب '' جیسا کھلواڑ ہوتے دیکھنے کا بڑا نقصان جمہوریت اور ملک کا ہی ہوگا۔ منی پاکستان نظر کرم کا محتاج ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی جانب سے دیے جانے والے متنازع بیان پر ایم کیو ایم کے جاری شدید احتجاج اور خورشید شاہ کی سکھر میں موجودگی کے دوران سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے ان کی رہائشگاہ پر 5 پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے جب کہ ان کے ساتھ چلنے والی پولیس موبائلز کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے ۔

ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ عوام نے یوم سیاہ منا کر نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ووٹ دیدیا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم ایم کیو ایم کو گلے لگانے کے لیے تیار ہیں، گورنر سے کل رات بھی بات ہوئی ہے لیکن اب کوئی سودے بازی نہیں ہوگی ۔ ملک کو درپیش سیاسی بحران کا تسلسل اور اب سندھ میں پی پی اور ایم کیو ایم کے مابین شو ڈاؤن کسی طور ملکی مفاد میں نہیں، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم محرم الحرام کے بعد کراچی سے ملک میں 20 نئے انتظامی یونٹس بنانے اور مظلوم عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے اپنی تحریک کا باقاعدہ آغاز کریگی۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سید خورشید شاہ اپنے آپ کو آل رسول کی اولاد کہتے ہیں ان کو مہاجر لفظ کو گالی قرار دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رحمٰن ملک کے مطابق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ مسئلہ کیا ہے ؟ خورشید شاہ نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ کھل کر بات کرے کہ اصل مسئلہ کیا ہے، سیاست میں مذہب کی آڑ نہیں لینی چاہیے ۔

برطانوی مدبر ایڈ منڈ برک نے کہا تھا کہ ''ہر حکومت ، بلکہ ہمہ اقسام کے انسانی فائدہ اور مسرت ، ہر اچھائی اور دور اندیشی پر مبنی عمل کی بنیاد کسی سمجھوتہ اور کچھ لوکچھ دو پر ہوتی ہے۔'' یہ سیاسی تجارت یا اصولوں کی سوداگری کا درس نہیں بلکہ منجدھار میں پھنسے ملکی سیاسی نظام کو ہولناک تشدد ، فسطائیت ، بے سمت محاذ آرائی اور سماج کو فرسٹریشن و تباہی سے بچانے کا ایک درد مندانہ حوالہ ہے ۔ قوم مفاہمت کی عملی تعبیر کی منتظر ہے ۔