انتخابی اصلاحات کا جمہوری عہد و پیماں

المیہ یہ ہے کہ 70 ء کے بعد جتنے’’آزادانہ‘‘ الیکشن ہوئے ان پر دھاندلی کا دھبہ ضرور لگا۔


Editorial November 20, 2014
بیشتر اپوزیشن جماعتیں 2013 ء کے انتخابات پر شدید تحفظات رکھتی ہیں، جب کہ اس کے برعکس عالمی جائزہ رپورٹس ، تجزیوں اور الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات شفاف تھے۔ فوٹو فائل

انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی نے عام انتخابات میں ریٹرننگ افسران، انتخابی عملہ اور سیکیورٹی اہلکار... الیکشن کمیشن کے ماتحت کرنے اور کسی بھی اہلکار کے خلاف شکایت کی صورت میں کارروائی کرنے کا اختیار دینے کی سفارش کردی ۔

منگل کو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر زاہد حامد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ انتخابی اصلاحات کی ضرورت اور اس کا ترمیمی ایجنڈا درحقیقت قومی انتخابات کے افق پر چھائے ہوئے بے اعتمادی، جعل سازی ، دھاندلی کے کالے بادل اور ووٹنگ کے دوران ناروا طریقہ کار اختیار کرنے کے تند و تیز الزامات اور اسی تناظر میں ان جمہوری اور حق رائے دہی کے بنیادی امور سے ہے جس کے بطن سے ایک آزاد ، با اختیار و انتظامی اعتبار سے کلی طور پر خود مختار الیکشن کمیشن کا تصور ابھرتا ہے ، چنانچہ اس طرح کے خود مختار اور آزاد الیکشن کمیشن کی عملی تشکیل پر زیر نظر اجلاس کی کارروائی کا جائزہ لینا از حد ضروری ہوگا ۔ ایسے آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن دنیا بھر میں موجود ہیں ، دور کیوں جائیے، حالیہ بھارتی انتخابات اسی قسم کے خود مختار الیکشن کمیشن کے مرہون منت ہیں۔ مذکورہ اجلاس میں اراکین کمیٹی کو الیکشن کمیشن کے حکام نے انتخابات کے حوالے سے درپیش مشکلات سے متعلق بریفنگ دی ۔

یہ درپیش مشکلات اس وقت سے ہیں جب سے اس مملکت خداداد میں جمہوری انتخابات کی عملی تعبیر ممکن ہوئی ، ووٹرز نے 1970ء میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور اسی وجہ سے ان انتخابات کو ملک میں اولین آزادانہ ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن کی سند عطا ہوئی۔جب کہ حیران کن امر یہ ہے کہ وہ انتخابات ایک فوجی آمر نے کرائے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد کوئی دیو مالائی کرشمہ نہیں بلکہ ٹھوس اور شفاف انتظامی اقدامات سے متعلق ایک کمٹمنٹ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ 70 ء کے بعد جتنے''آزادانہ'' الیکشن ہوئے ان پر دھاندلی کا دھبہ ضرور لگا اور اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان کی پوری آزادی مہم انتخابی دھاندلیوں کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات سے نتھی ہے اور پورا ملک بعد از انتخابات ایک شدید بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔

بیشتر اپوزیشن جماعتیں 2013 ء کے انتخابات پر شدید تحفظات رکھتی ہیں، جب کہ اس کے برعکس عالمی جائزہ رپورٹس ، تجزیوں اور الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات شفاف تھے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی رولنگ دی کہ بادی النظر میں دھاندلی کا کیس نہیں بنتا ۔ تاہم صورتحال بدستور ایک نہ ختم ہونے والی محاذ آرائی کی ہے جس میں جگ ہنسائی بھی ہورہی ہے اور قومی معیشت اور کاروبار حکومت و مملکت داؤ پر لگے ہوئے ہیں، بے یقینی اور عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کو خوب کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے،جب کہ وفاقی حکومت ، پاکستان عوامی تحریک، اور عمران خان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے مابین مفاہمت اور مصالحت کے لیے سنجیدہ سیاسی عناصر سرگرم عمل ہیں، مگر مذاکرات کا اونٹ اسی وقت کسی کروٹ بیٹھے گا جب حکومت اپنی طرف سے انتخابی اصلاحات سمیت دیگر اہم ایشوز پر غیر مشروط اور فراخدلانہ بات چیت پر آمادگی کا عملی فارمولا پیش کرے ۔

پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکامی پر الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ الیکشن کمیشن کے اراکین سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے خلاف چیئرمین عمران خان کی کال پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں راولپنڈی اور اسلام آباد سے سیکڑوں شہریوں اور تحریک انصاف کے کارکنان نے شرکت کی۔ تاہم آزاد انتخابی عملہ ، ریٹرننگ افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کو الیکشن کمیشن کے ماتحت کرنے کی انتخابی اصلاحات کی مثبت کوشش ایک بریک تھرو بن سکتی ہے جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ عام انتخابات میں ملنے والی شکایات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے کمیٹی کو انتخابی نشانات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد کنوینر کمیٹی زاہد حامد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار اور خود مختار بنایا جائے اور عام انتخابات کے دنوں میں الیکشن کمیشن ریٹرننگ افسران، انتخابی عملہ اور سیکیورٹی اہلکار الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوں گے اور ان کے خلاف ملنے والی کسی بھی کارروائی پر الیکشن کمیشن کارروائی کرسکے گا ۔

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے انتخابی قانون کا بھی جائزہ لیا، انتخابات کے دوران کسی بھی آزاد امیدوار کو پارٹی کا انتخابی نشان الاٹ نہیں ہو گا، کمیٹی کا آیندہ اجلاس اب24 نومبر کو ہو گا ۔المختصر یہ کہ3 اکتوبر2014 ء کی ایک اخباری اطلاع کے مطابق سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق خان نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ریٹرننگ افسران کے خلاف شکایات سامنے آئیں مگر کارروائی کا انھیں کوئی اختیار نہیں تھا،جب کہ 12ستمبر2014 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ریٹرننگ و ڈپٹی ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں ۔لہٰذا اب ضرورت ایک اتفاق رائے کی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ایک خود مختار اور آزادانہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے مسئلے پر مفاہمت کا اصولی فیصلہ کریں تاکہ انتخابات کے شفاف انعقاد کے سلسلہ میں ہر قسم کی منفی اور اضطراب انگیز بحث کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے۔ قوم کو جمہوریت کے ثمرات دینے کی رفتار کم ہے مگر اسے صدمات سہنے کے لیے افواہوں،احتجاجی مظاہروں،بد امنی،مہنگائی، بیروزگاری اور لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ارباب اختیار کو اب اس حقیقت کا احساس کرنا چاہیے کہ ووٹ کی پرچی ''بیلٹ'' بندوق کی گولی ''بلٹ'' سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے ۔

اس لیے ملکی قیادت اور مین اسٹریم سیاسی جماعتیں یقین محکم ،وژن اور قومی جذبہ سے کام لیں ،شفاف الیکشن کا انتظام اور انعقاد جمہوریت کی روح ہے ، ووٹرز کے ضمیر کا سودا کرنے کا راستہ بند ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ موجودہ حکمراں انتخابی اصلاحات کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل کریں ، پارلیمانی کمیٹی نے جو 550 تجاویز مرتب کی ہیں ان کا جائزہ لے کر اصلاحات کے قابل عمل متفقہ پیکیج کا انھیں حصہ بنایا جائے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں اب مزید تاخیر نہ ہو ۔