کراچی میں سالانہ 26 ہزار ٹریفک حادثات ہوتے ہیں کمشنر

ایک ہزار ہلاک، 32ہزار سے زائد زخمی ہوتے ہیں،قوانین کی خلاف ورزی سبب ہے


Staff Reporter October 01, 2012
کمشنر کراچی نے اس موقع پر کہا کہ کراچی میں روز بروز بڑھتا ہوا ٹریفک کا دبائو اور آبادی میں اضافے نے سڑکوں پر ٹریفک حادثات کے خطرات بڑھادیے ہیں۔ فوٹو: فائل

کمشنر کراچی روشن علی شیخ نے کہا ہے کہ شہر میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کی کمی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، نابالغ ڈرائیور، پرانی پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، گاڑیاں حادثات کے بڑھتے ہوئے اسباب ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کراچی میں سالانہ 26 ہزار سے زائد حادثات رونما ہوتے ہیں جس کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور32ہزار سے زائد افراد زخمی ہوتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو اپنے دفتر میں اجلاس کی صدارت کے موقع پر کیا، اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کراچی کامران شمشاد، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی ڈاکٹر سیف الرحمن، ڈپٹی کمشنر ضلع غربی گنہور علی لغاری سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں کراچی میں مختلف اوقات میں ٹریفک جام، ٹرانسپورٹ سسٹم، کم عمر ڈرائیورز اور دیگر حوالوں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کمشنر کراچی نے اس موقع پر کہا کہ کراچی میں روز بروز بڑھتا ہوا ٹریفک کا دبائو اور آبادی میں اضافے نے سڑکوں پر ٹریفک حادثات کے خطرات بڑھادیے ہیں ، اگر ہم نے ٹرانسپورٹ سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا تو حادثات میں دن بدن اضافہ ہوتا جائیگا، روشن علی شیخ نے کہا کہ چنگچی رکشائوں کے ڈرائیورز سمیت تمام پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ ڈرائیورز کیخلاف جلد ہی مہم شروع کی جائیگی اور تمام نابالغ اور غیر لائسنس یافتہ ڈرائیورز کیخلاف ایکشن لیا جائیگا، پہلے مرحلے میں انھیں وارننگ جبکہ دوسرے مرحلے میں گرفتار کرکے انکی گاڑی ضبط کرلی جائیگی، روشن علی شیخ نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔