ایشیائی ٹیمیں جلد فتوحات کے ٹریک پر لوٹ آئیں گی پاکستانی کوچ

پاک بھارت ہاکی ٹیموں کا ماضی سنہری یادوں سے بھرا پڑا ہے، مشکل دور سے نکلنے کیلیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا،شہناز شیخ


Sports Desk December 05, 2014
پاک بھارت ہاکی ٹیموں کا ماضی سنہری یادوں سے بھرا پڑا ہے، مشکل دور سے نکلنے کیلیے مل کر آگے بڑھنا ہوگا،شہناز شیخ فوٹو: فائل

پاکستانی ہاکی کوچ شہناز شیخ کو یقین ہے کہ ایشیائی طاقتیں ایک بار پھرعالمی سطح پر فتوحات کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

ان کے مطابق پاک بھارت ٹیموں کا ماضی کامیابیوں کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے، موجودہ مشکل دور سے نکلنے کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کیلئے پاکستانی ٹیم کے ہمراہ بھارتی شہر بھوبھنیشور میں موجود سابق اسٹار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 1978 کے افتتاحی ایونٹ کا پہلا گول کرنے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا، ٹورنامنٹ میں ہم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، بڑی فتح کے بعد ہمارے ملک میں عام تعطیل کردی گئی تھی، ان دنوں پاکستان اور بھارت میں حقیقی طور پر ہاکی کو عزت حاصل تھی، پڑوسی ممالک کے لوگ کرکٹرز یا دیگر کھیلوں سے زیادہ ہاکی میں دلچسپی لیتے اور کھلاڑیوں کو ہیروز کا درجہ حاصل تھا لیکن اس کے بعد حالات یکسر مختلف ہوگئے۔

شہناز شیخ نے کہا کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا، دونوں ملک مل کر ماضی کے سنہری دور کو واپس لا سکتے ہیں، اگر پاک بھارت ہاکی سیریز بحال ہوجائے تو یہ مقصد کے حصول کی جانب پہلا اور اہم قدم ثابت ہوگا۔ ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی کے افتتاحی ٹائٹلز جیتنے والے گرین شرٹس اسکواڈ میں شامل65 سالہ شہناز شیخ نے کہا کہ خطے میں ہاکی کو عروج پر لانے کیلیے پاکستان اور بھارت کو چند بڑے ناموں کی ضرورت ہے،ہمار ے پاس محمد دلبر اور رضوان سینئر کی صورت میں ایسے چہرے موجود ہیں، بھارت کے پاس سردار سنگھ ہے لیکن اس کے مقابلے میں آسٹریلیا اور جرمنی کی ٹیموں میں کئی اسٹارز شامل ہیں۔ کوچ نے راولپنڈی میں بڑے ہاکی اسٹیڈیم کی تعمیر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس شہر سے کئی نوجوان کھلاڑی سامنے آئیں گے، ایک وقت تھا جب ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں کا تعلق راولپنڈی یا اطراف سے ہوتا تھا لیکن اب شاید ہی کوئی شامل ہو، یہ صورتحال سہولیات کے فقدان کی وجہ سے درپیش آئی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی ان دنوں مالی مشکلات کا شکاراور ہماری عالمی رینکنگ بھی11 ہے اس کے باوجود چیمپئنز ٹرافی میں عمدہ کھیل کیلیے پُرعزم ہیں، ٹیم سینئرز اور جونیئرز کا امتزاز ہے، یہی کھلاڑی ایشین گیمز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے،بدقسمتی سے فائنل میں پنالٹی شوٹ آؤٹس پر شکست نے گولڈ میڈل سے محروم کردیا، گرین شرٹس کو گذشتہ چیمیپئنز ٹرافی میں برانز میڈل جیتنے سے بھی حوصلہ ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ ٹورنامنٹ انتہائی سخت اور پاکستانی ٹیم سب سے کمتر رینک سائیڈ ہے لیکن ہم یہاں سے ایسا کچھ ضرور حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جس سے قومی کھیل کو ماضی کی سنہری یادوں میں واپس لے جانے میں مدد ملے۔ شہناز شیخ نے کہاکہ مجھے بھارت آکر بہت اچھا لگ رہا ہے، اس ملک میں میرے بہت سے دوست موجود ہیں، میں 70 کی دہائی کے اسٹار اجیت پال سنگھ، اشوک کمار اور بی پی گوندا سے ملاقات کرچکا اور مزید کئی دوستوں سے ملنے کا ارادہ ہے۔