سیمی فائنل میں رسائی یا رسوائی پاکستانی کشتی طوفان میں گھر گئی

سخت دبائو کے باوجود ٹور سلیکشن کمیٹی کیلیے آفریدی کو ڈراپ کرنے کی کڑوی گولی نگلنا ممکن نہیں


Sports Desk October 02, 2012
پاکستانی ٹیم کے مقدر کے فیصلے کی گھڑی قریب آ گئی ہے، سپر ایٹ رائونڈ کے گروپ ایف میں منگل کو آسٹریلیا سے معرکہ آرائی ہوگی. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

لاہور: ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی یا قبل از وقت گھر واپسی کی صورت میں رسوائی۔

پاکستانی ٹیم کے مقدر کے فیصلے کی گھڑی قریب آ گئی ہے، سپر ایٹ رائونڈ کے گروپ ایف میں منگل کو آسٹریلیا سے معرکہ آرائی ہوگی، گرین شرٹس کی کشتی طوفانوں میں گھری نظر آتی ہے، بقا کی جنگ میں ہر صورت کینگروز کو فنا کرنا ہوگا، عام فتح نہیں بلکہ بڑے مارجن سے جیت کو گلے لگانا لازمی ہے، شکست قبل از وقت گھر واپسی پر مجبور کر دے گی، سپر ایٹ میں بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی ٹیم کو انتہائی نازک موڑ پر لے آئی۔

سخت دبائو کے باوجود ٹور سلیکشن کمیٹی کیلیے آفریدی کو ڈراپ کرنے کی کڑوی گولی نگلنا ممکن نہیں، بڑے مواقع کے اسٹار آل رائونڈر پر پھر جوا کھیلے جانے کا امکان ہے،البتہ بعض تبدیلیوں پر غور جاری ہے، یاسر عرفات کی جگہ عبدالرزاق کو کھلانے کا منطقی آپشن موجود ہوگا، کینگروز کی اسپن کمزوریوں کو نشانہ بنانے کیلیے رضا حسن کو برقرار رکھا جائے گا، بیٹنگ آرڈر کے استحکام کیلیے اسدشفیق کو بھی آزمایا جا سکتا ہے،کپتان محمد حفیظ پرسیمی فائنلز کھیلنے کی پاکستانی روایت کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔

کوچ ڈیو واٹمور نے کہاکہ ہمیں کئی چیزوں میں بہتری کی ضرورت ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بڑی کامیابی کے سواکوئی اور چارہ ہی نہیں ہے۔ دوسری جانب ناقابل تسخیر آسٹریلیا بھی ناقابل اعتبار پاکستانی ٹیم سے مقابلے میں کافی محتاط دکھائی دیتا ہے، بھارتی اسپن اٹیک کی دھجیاں بکھیرنے کی وجہ سے کینگرو بیٹنگ لائن کے حوصلے کافی بلند ہیں، ابتدا میں وکٹیں بچا کر حریف بولنگ اٹیک کو دبائو میں لانے کی حکمت عملی جاری رکھی جائے گی۔ وکٹ بدستور سلو مگر سنبھل کر بیٹنگ کرنے والوں کیلیے جنت ثابت ہونے کو تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپر ایٹ کے ابتدائی میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف بمشکل فتح کے بعد بھارت کیخلاف8 وکٹ سے بڑی شکست نے پاکستانی ٹیم کو مشکلات کا شکارکردیا ہے، ان سے نکلنے اور سیمی فائنل میں پہنچنے کیلیے اسے اب تک ایونٹ میں ناقابل تسخیر آسٹریلوی ٹیم کو مات دینے کا مشکل ترین چیلنج درپیش ہے۔ پاکستان کیلیے یہ بات قابل اطمینان ہوسکتی ہے کہ اس نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کو تین میچز کی سیریز میں 2-1 سے زیر کیا، مگر اس کے ساتھ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پہلے مقابلے میں گرین شرٹس کی بڑی فتح کے بعد کینگروز نے تیزی سے اپنی خامیوں پر قابو پانا شروع کردیا جس کا نتیجہ دوسرے میچ کا سپر اوور میں جانا اور تیسرے میں گرین شرٹس کی شرمناک شکست کی صورت میں سامنے آیا۔

سری لنکا میں آمد کے بعد کوئی بھی ٹیم آسٹریلیا کو قابو نہیں کرسکی، وارم اپ میچز میں بھی جارج بیلی الیون نے فتوحات ریکارڈ کرائی تھیں، اب تک کھیلے گئے چاروں میچز میں آسٹریلیا کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کی بدولت شین واٹسن مسلسل چار مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ جیت چکے،وہ پاکستان کے خلاف بھی بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں تاہم گرین شرٹس نے ان کو قابو پانے کیلیے سوچ بچار شروع کردی ہے۔ پاکستان کیلیے سب سے بڑا مسئلہ بیٹنگ لائن بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بولنگ اٹیک کیلیے کمزور ہدف کا دفاع کرنا مشکل ہوجاتا ہے، ٹاپ آرڈر پر عمران نذیر اپنی جلد بازی کی پرانی بیماری پر قابو نہیں پاسکے۔

بھارت سے میچ میں ون ڈائون پر ترقی پانے والے آئوٹ آف فارم شاہد آفریدی کو ڈراپ کرنے کیلیے ٹور سلیکشن کمیٹی پر سخت دبائوہے مگر وہ اتنے اہم مقابلے میں یہ کڑوی گولی نگلنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی، بڑے میچ میں بڑے اسٹار سے بڑی امیدیں باندھ کر پھر میدان میں اتارا جاسکتا ہے، یاسر عرفات مسلسل مواقع ملنے کے باوجود کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھا پائے، اس لیے تجربہ کار عبدالرزاق کو کھلایا جاسکتا ہے، سعید اجمل کے پاس ایک بار پھر مائیک ہسی سے ورلڈ کپ 2010 کے سیمی فائنل کا بدلہ لینے کا موقع موجود ہے۔

کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے پھر بھارت کے خلاف میچ جیسا کھیل پیش کیا تو آگے نہیں جاسکیں گے،کامیابی کیلیے کئی چیزوں میں بہتری درکار ہے، ہم یو اے ای میں آسٹریلیا کے خلاف اچھی کارکردگی پیش کرچکے مگر ان کی یہاں پر پرفارمنس انتہائی شاندار رہی لہذا یہ کانٹے دار مقابلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب آسٹریلیا کیلیے واحد تشویش کی بات مڈل آرڈر ہے کیونکہ اب تک کے مقابلوں میں ٹاپ آرڈر کی عمدہ کارکردگی کے باعث بعد کے بیٹسمینوں کو صلاحیتیں کے جوہر دکھانے کا موقع ہی نہیں مل پایا ہے،کپتان جارج بیلی کا کہنا ہے کہ ہم فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھنے کیلیے پُرعزم ہیں۔