توانائی بحران عارضی بجلی گھر لگانے کیلیے امریکی بینک سے قرض لینے پرغور

1موبائل پاور ٹربائن 37 فیصد کارکردگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 31 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


Irshad Ansari December 14, 2014
امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک نے حکومت کو فاسٹ ٹریک شارٹ ٹرم پراجیکٹس کے طور پرآن ڈیمانڈ پاور جنریشن فلیٹ (ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹس) فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، ذرائع فوٹو : فائل

KARACHI: وفاقی حکومت نے گرمیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کے لیے مارچ 2015 تک گیس پر چلنے والے موبائل پاور جنریشن یونٹس لگانے کے لیے امریکا کے ایگزائم بینک سے 40کروڑ ڈالر سے زائد کا قرض لینے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک نے حکومت کو فاسٹ ٹریک شارٹ ٹرم پراجیکٹس کے طور پرآن ڈیمانڈ پاور جنریشن فلیٹ (ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹس) فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس حوالے سے ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویزکے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ جنرل الیکٹرک ویل ہیڈ پر عارضی پاور جنریشن پلانٹس لگانے کے حوالے سے دیے جانے والے حکومتی اشتہارات کے جواب میں درخواست جمع کرا سکتی ہے۔

دستاویز کے مطابق جنرل الیکٹرک پاکستان کے کنٹری ہیڈ نے رواں ماہ کے آغاز پر وزیراعظم کی زیرصدارت توانائی کمیٹی کے اجلاس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے شارٹ ٹرم حل کے لیے گیس پر چلنے والے آن ڈیمانڈ پاور جنریشن فلیٹ (ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹس) کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ مذکورہ منصوبے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے فاسٹ ٹریک پروجیکٹس کے طور پر اس کا حل ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ1موبائل پاور ٹربائن 37 فیصد کارکردگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 31 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جنرل الیکٹرک کے پاس 20 ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹس اسٹاک میں موجود ہیں اور ان موبائل پاور جنریشن یونٹ کو لگانے کے لیے کم از کم ایک ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور یہ موبائل یونٹس تنصیب کے بعد11 دن میں بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں گے، یہ موبائل پاور جنریشن یونٹس وہاں لگائے جہاں جاسکتے ہیں۔

جہاں گیس اور گرڈ لائن دستیاب ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹ کی تنصیب پر2کروڑ ڈالر لاگت آتی ہے اور موبائل پاور جنریشن یونٹس کی تنصیب مارچ2015 تک ملک میں بجلی کی قلت میں کمی لانے کے انتظامات کا شارٹ ٹرم حل ہے اور یہ موبائل پاور جنریشن یونٹ ملک میں مستقل پاور پلانٹس کی تنصیب تک لگائے جاسکتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹریلر ماؤنٹڈ یونٹس الجزائر، انگولا اور یونان میں کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں، مذکورہ موبائل پاور جنریشن یونٹس لگانے کے لیے امریکا کے ایگزائم بینک کے ذریعے فنانسنگ کا بندو بست کیا جاسکتا ہے، اجلاس میں جنرل الیکٹرک کے کنٹری ہیڈ کی بریفنگ پر توانائی کمیٹی نے کہا کہ آئندہ گرمیوں کے موسم میں جب بجلی کی طلب عروج پر ہو تو رسد میں کمی کے خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے شارٹ ٹرم حل ضروری ہے۔

اس شارٹ ٹرم حل کے لیے جنرل الیکٹرک ویل ہیڈ پر عارضی پاور جنریشن پلانٹس لگانے کے حوالے سے دیے جانے والے اشتہارات کے تحت حصہ لے سکتی ہے۔ اس بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس تجویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ مذکورہ شارٹ ٹرم حل کے تحت گیس پر چلنے والے موبائل پاور جنریشن یونٹس لگانے کے لیے امریکا کے ایگزائم بینک سے 40کروڑ ڈالر سے زائدکا قرض لینے کے لیے رجوع کیا جائے کیونکہ اگر 20 موبائل پاور جنریشن یونٹ لگائے جاتے ہیں تو اس پر40کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔