پاکستان کی فتح اور بھارتی میڈیا کا منفی کردار

پاکستان اوربھارت کےدرمیان کوئی بھی میچ ہو،اس میں شائقین کاجوش بھی بہت زیادہ ہوتا ہے،کھلاڑیوں میں بھی یہی جذبہ ہوتاہے۔


Editorial December 14, 2014
پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھی جب اعصاب شکن مقابلے کے بعد فتح حاصل کی تو ان کا بے ساختہ انداز میں خوشی منانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، فوٹو : اے ایف پی

بھارت کے شہر بھونیشور میں چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بھارت کو سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی اور 16 سال بعد ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچا۔ کامیابی کے بعد پاکستانی کھلاڑی سجدہ ریز ہوگئے اور پوری ٹیم نے گراؤنڈ کا چکر لگایا، بعض کھلاڑیوں نے خوشی میں شرٹ اتار کر ہوا میں لہرائیں۔ ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے۔

جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑی گراؤنڈ میں مختلف انداز میں اپنی خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں، پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھی جب اعصاب شکن مقابلے کے بعد فتح حاصل کی تو ان کا بے ساختہ انداز میں خوشی منانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے لیکن بھارتی میڈیا نے اس معاملے کو ایک بہت بڑا ایشو بنا دیا اور پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف بیانات کی بھرمار ہو گئی۔ یوں پاکستان کی فتح کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستانی کھلاڑیوں کے خوشی کے اظہار کو تنقید کا نشانہ بنا کر بحران پیدا کیا گیا۔

چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ٹیم آغاز میں اپنے میچ ہار چکی تھی، کھلاڑی خاصے دباؤ میں تھے، پاکستانی ہاکی ٹیم نے کوارٹر فائنل میں ہالینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو ہرایا تو کھلاڑیوں کا جذبہ اور جوش بہت بڑھ گیا تھا، سیمی فائنل میں بھارت کے ساتھ مقابلہ تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بھی میچ ہو، اس میں شائقین کا جوش بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، کھلاڑیوں میں بھی یہی جذبہ ہوتا ہے، پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھی اعصاب شکن مقابلے کے بعد فتح حاصل کی، اس لیے کھلاڑیوں نے غیر معمولی جوشیلے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا لیکن بھارتی میڈیا نے پاکستانی کھلاڑیوں کے اس جشن فتح کو بدتمیزی سے تعبیر کیا اور آسمان سر پر اٹھا لیا، بھارتی ہاکی فیڈریشن نے معاملہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن تک پہنچا دیا، انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کے دو کھلاڑیوں امجد علی اور محمد عرفان پر ایک میچ کی پابندی عائد کر دی جب کہ شفقت رسول کو وارننگ دی گئی۔

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے یہ فیصلہ بھارتی دباؤ اور جلد بازی میں کیا ہے، زیادہ بہتر ہوتا اگر وہ تینوں کھلاڑیوں کو وارننگ دے کر معاملہ ختم کرا دیتے لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا، اس سارے معاملے میں بھارتی میڈیا نے انتہائی منفی کردار ادا کیا، اس نے معمولی بات کو طوفان بنایا اور بھارتی عوام میں پاکستان اور پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں نفرت و غصے کے جذبات ابھارے، حالانکہ ہالینڈ سے میچ جیتنے کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران نے کہا تھا کہ بھارتی شائقین کا رویہ بہت مثبت رہا اور انھوں نے پاکستان کو سپورٹ کیا، یہ جذبہ خوش آیند ہے۔

دونوں ملکوں کی ٹیموں کو ایسے ہی آگے بڑھانا چاہیے لیکن بھارتی میڈیا نے منفی کردار ادا کر کے خوشگوار فضا کو زہر آلود کیا۔ پاکستانی ٹیم مینجمنٹ سے بھارتی صحافیوں نے بدتمیزی کی۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے بلا وجہ تنازع کھڑا کیا۔ بھارتی صحافیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے جشن منانے کے طریقے پر اعتراض کیا۔

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران نے بھی کہا ہے کہ جیت کا جشن منانا ہمارا حق ہے اگر کوئی غلط بات ہوئی بھی ہے تو کوچ نے معذرت کر لی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری فتح پر بھارتیوں نے ایسا ردعمل دیا جیسے وہ جنگ ہار گئے ہوں، بھارتی تماشائیوں نے بوتلیں پھینکیں اور نعرے بازی کی۔

اصولی طور پر جب پاکستانی کوچ نے معذرت کر لی تھی تو یہ معاملہ ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن بھارتی میڈیا نے اسے ایشو بنایا اور بھارتی ہاکی فیڈریشن اس کا حصہ بن گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بھارت اس واقعے کی آڑ میں پاکستانی ٹیم پر پابندی عائد کروانا چاہتا ہے لیکن اسے اس مقصد میں ناکامی ہوئی تاہم بھارت پاکستان کے دو کھلاڑیوں پر پابندی لگوانے میں کامیاب رہا۔ اس سے عالمی سطح پر بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں کسی حد تک منفی تاثر جائے گا۔

پاکستانی ہاکی آفیشلز اور دیگر ذمے داروں کو حالات کا پوری سنجیدگی سے جائزہ لے کر مستقبل کی پیش بندی کرنی چاہیے۔ کھلاڑیوں کو بھی اعتدال کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ کھلاڑی کسی ملک اور قوم کے سفیر ہوتے ہیں، انھیں گراؤنڈ میں تہذیب اور شائستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم نے بھارت کو اس کی ہوم گراؤنڈ پر شکست دے کر جو بڑا کارنامہ انجام دیا تھا، وہ الزامات کی زد میں آ گیا جس سے فتح کا مزہ کر کرا ہوگیا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو فتح کی خوشی مناتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار اس انداز میں کرنا چاہیے جس سے بدتمیزی یا بے ہودگی کا تاثر نہ جائے۔ فتح کا جشن منانا کھلاڑیوں کا حق ہوتا ہے لیکن اس کا مقصد ہارنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں یا شائقین کی توہین کرنا نہیں ہوتا۔ اس لیے کھلاڑیوں کو اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا چاہیے اور شائقین کے منفی رویے کا جواب بھی مثبت رویے سے دینا چاہیے۔ بہر حال جو ہونا تھا، وہ ہو چکا، اس واقعے سے سب کو مستقبل کا لائحہ عمل بہتر بنانا چاہیے تا کہ آیندہ اس قسم کی صورت حال پیدا نہ ہو۔