ڈی آر ایس پر ہٹ دھرمی کے خلاف بھارت میں بھی آوازیں بلند ہونے لگیں

بی سی سی آئی کے ٹیکنالوجی کیخلاف دلائل بھی 100 فیصد درست نہیں، بھارتی ماہرین


Sports Desk December 15, 2014
بی سی سی آئی کے ٹیکنالوجی کیخلاف دلائل بھی 100 فیصد درست نہیں، بھارتی ماہرین۔ فوٹو: فائل

ڈی آر ایس پر بھارتی ہٹ دھرمی کے خلاف خود اس کے ملک میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جب کہ بی سی سی آئی کے ٹیکنالوجی کے خلاف دلائل بھی 100 فیصد درست نہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے ڈسیشن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کی مسلسل مخالفت جاری ہے جس کا خمیازہ انھیں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے آخری روز شیکھر دھون اور اجنکیا راہنے کی وکٹ کی صورت میں بھگتنا پڑا، دونوں کو غلط آؤٹ دیا گیا تھا مگر چونکہ بھارتی مخالفت کی وجہ سے اس سیریز میں ڈی آر ایس کا استعمال نہیں ہورہا اس لئے فیلڈ امپائرز کے فیصلوں کو چیلنج ہی نہیں کیا جاسکا۔

سیریز سے قبل قائمقام کپتان ویرات کوہلی سے جب ان کے بورڈ کی جانب سے اس سسٹم کی مخالفت پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ 100 فیصد درست نہیں، اس لیے ہم اس کے حق میں نہیں ہیں، یہی بھارتی بورڈ کا برسوں پرانا موقف ہے جوکہ خود بھی 100 فیصد درست نہیں ہے۔ ماہرین نے مثال دی ہے کہ فضائی سفر بھی تو 100 فیصد محفوظ نہیں پھر کیوں بھارتی ٹیم جہاز پر سوار ہوکر آسٹریلیا آئی ہے۔

اسی طرح جب اس بات کا 100 فیصد یقین نہیں ہوتا کہ میدان میں نتائج مثبت آئیں گے تو پھر ڈنکن فلیچر اور دیگر کوچز پرکروڑوں روپے کیوں صرف کیے جاتے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ بگ تھری کی وجہ سے آئی سی سی کی آمدنی میں سے سب سے زیادہ حصہ وصول کررہا ہے لیکن کھیل کی بہتری میں اس کا حصہ زیادہ نہیں ہے۔ ماہرین نے بی سی سی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بغیر کسی دلیل کے صرف 100 فیصد بے عیب سسٹم کا راگ الاپنے کے بجائے کھیل کو زیادہ بہتر اور فیصلوں کو زیادہ منصفانہ بنانے کیلیے اپنا کردار ادا کرے۔