ایکسپریس میڈیا گروپ کی آؤ پڑھاؤ مہم تعمیری ہے ماہرین تعلیم

مہم کے ذریعے نئی صبح کا آغاز ہوگا، اساتذہ کی خدمات کو سراہنے کے لیے تقاریب ہوں گی۔


Staff Reporter December 16, 2014
مہم کے ذریعے نئی صبح کا آغاز ہوگا، اساتذہ کی خدمات کو سراہنے کے لیے تقاریب ہوں گی۔ فوٹو: ایکسپریس

KARACHI: کراچی کے اساتذہ نے ایکسپریس میڈیاگروپ کی آؤ پڑھاؤ مہم کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہم کے ذریعے نئی صبح کا آغاز ہوگا۔

پیر کو ایکسپریس میڈیا گروپ کے تحت آؤ پڑھاؤ جو سیکھا ہے سکھاؤ کے سلسلے میں جامعہ کراچی میں آئی بی اے کیمپس میں اساتذہ اور طلبا میں آگاہی کی غرض سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا،سیمینار سے ڈاکٹر طلعت وزارت، ڈاکٹر فرحان جی من والا، پروفیسر لیون میتھیوز اورایکسپریس میڈیاگروپ کی جانب سے آؤ پڑھاؤ مہم کی ڈائریکٹر زارا بشارت سمیت دیگر نے خطاب کیا، اساتذہ نے ایکسپریس میڈیا گروپ کی اس کاوش کو سراہا، اساتذہ نے اس بات کو خوش آئند قراردیا کہ درس و تدریس کے شعبے میں طالب علموں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کا رجحان کم ہے، اسی رجحان کو ختم کرنے کے لیے اس تعمیری مہم کے ذریعے ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا۔

سیمینار میں طلبا نے بھی ایکسپریس میڈیا گروپ کی مہم کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے معاشرے میں ایک تبدیلی قرار دیا ، سیمینار میں شریک اساتذہ میں آؤ پڑھاؤ ، جو سیکھا ہے سکھاؤکی جانب سے یادگار شیلڈ اور اسناد بھی دی گئیں ، اس موقع پر زارا بشارت نے کہا کہ ایکسپریس میڈیا گروپ اساتذہ کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دلائے گا ، اس باوقار پیشے میں نوجوان گریجویٹ آگے آئیں ، مہم کا مقصد انھیں شعبہ تدریس کی جانب راغب کرنا ہے، آؤ پڑھاؤ مہم ہر کیمپس میں اساتذہ کی خدمات کو سراہنے کے لیے تقاریب منعقد کی جائیں گی۔

آؤ پڑھاؤ مہم کا مقصد بچوں کا مستقبل بدلنا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو تدریس کی جانب مائل کرکے وطن عزیز میں تعلیم کے شعبے کی بہتری اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے خواب کو ممکن بنانا ہے، ایک استاد جس طرح تنہا ہزاروں بچوں کو متاثر کرنے اور ان میں جوش و جذبہ پروان چڑھانے کی بے پناہ صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح ان بچوں کے عزائم تباہ کرنے پر بھی قادر ہوتا ہے، قوم کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ ایسی ہی معاشرتی حیثیت کی حامل فیصلہ کن قوتوں کے مالک ہوتے ہیں ، ہم زندگی کے خدوخال کی تشکیل کے اہم برسوں کی اکثریت انہی اساتذہ کی زیر نگرانی ان سے سیکھنے ، ان جیسا بننے اور انھیں امید ساز و خواب گر سمجھتے ہوئے گزارتے ہیں۔