مردم شماری سے فرار کیوں

جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، وہ کرتی نہیں ہیں، ٹال مٹول سے جب کام چلتا ہے تو جھنجھٹ میں کون پڑے


Editorial December 18, 2014
اقوام عالم تو مردم شماری کی بنیاد پر عوام میں وسائل کی تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، فوٹو: فائل

جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، وہ کرتی نہیں ہیں، ٹال مٹول سے جب کام چلتا ہے تو جھنجھٹ میں کون پڑے، کون بکھیڑے نمٹاتا پھرے، ایسے میں بس ایک عدلیہ کا دم ہی غنیمت ہے جو کم ازکم اس جانب توجہ مبذول کروا کرکام کو مکمل کرنے کا حکم صادرکرتی ہے، اسی تناظر میں سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی وصوبائی حکومت اوردیگر اداروں کو مردم شماری کم سے کم مدت میں کرانے سے متعلق اقدامات کی رپورٹس اور تجاویز تین ہفتوں میں طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ مردم شماری کے بغیر ملک میں نئی حلقہ بندیاں، اسمبلیوں کے لیے نشستوں کی تقسیم اورشفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔

اقوام عالم تو مردم شماری کی بنیاد پر عوام میں وسائل کی تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، لیکن ہماری کہانی تو سب سے مختلف ہے ، 1998 کی مردم شماری کے بعد ہمیں یہ توفیق تک نہیں ہوئی ہے،کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ہر دس سال بعد مردم شماری کروالیتے۔ حکومتیں آتی اور جاتی رہیں ، کسی کو پروا نہیں،اب بھی ادارہ شماریات کی جانب سے تحفظ اور مالی وسائل فراہم کرنے کی شرائط پورا ہونے کی صورت میں 10ماہ کی مدت میں مردم شماری کی پیشکش کی گئی جسے سماعت کرنے والے بنچ نے مسترد کردیا۔

حقیقی صورت حال تو یہ ہے کہ مردم شماری کے بغیر عوام کے نمایندوں کو پارلیمنٹ اور بلدیاتی اداروں سمیت درست وشفاف نمایندگی نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی ان کے لیے نشستیں مختص کرنے کا کام کیا جا سکتا ہے، نئی ووٹر لسٹوں کی تیاری سے نئے ووٹرز کو بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع نہیں مل سکتا،یہ بات تو ہوئی انتخابی عمل کی۔

مردم شماری نہ کروانے کے باعث ملک کی حقیقی آبادی کا علم کسی کو نہیں، جس کی وجہ سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے، جو کہ باہمی عدم اعتماد کی فضا کو جنم دے رہی ہے ۔ اب لیت ولعل سے کام نہیں چلے گا، اگر ہمیں وطن عزیز کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو مردم شماری کا عمل ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنا ہوگا۔