دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں

پشاور میں جوعظیم سانحہ ہوا اس پر پوری قوم دکھی ہےاوراس میں دہشت گردوں کےخاتمے کے لیےجواتحاد نظرآیا وہ قابل تحسین ہے۔


Editorial December 18, 2014
امریکا دہشت گردوں کے تعاقب میں آئے دن پاکستان پر تو ڈرون حملے کرتا رہتا ہے مگر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہا، فوٹو : اے ایف پی

وزیراعظم نواز شریف نے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں بدھ کو گورنر ہاؤس پشاور میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں سے قوم کے بچوں کے خون کا حساب لیں گے۔

انھوں نے واضح کر دیا کہ ان ننھے بچوں کے گولیوں کے چھلنی چہروں کو سامنے رکھتے ہوئے لڑنا اور یہ جنگ جیتنا ہے' شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائیگا' پاکستان کو ایک پرامن ملک بنانے کے لیے سب میں اتفاق رائے ہے' انتہا پسندی یا دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں' مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتے وقت ان بچوں کے مسکراتے چہروں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے افغان صدر سے فون پر بات چیت کی اور یہ فیصلہ ہوا کہ افغانستان کے اندر ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، خواہش ہے کہ پاکستان اور پورے خطے کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا جائے۔

پشاور میں جو عظیم سانحہ ہوا اس پر پوری قوم دکھی ہے اور اس میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے جو اتحاد نظر آیا وہ قابل تحسین ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں نے اس حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی، اسی تناظر میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو کابل کا دورہ کیا اور افغان صدر اشرف غنی' ایساف کمانڈر جنرل جان ایف کیمبل سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے اس بہیمانہ واقعہ میں تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد اور خفیہ معلومات پیش کیں۔

پاکستان نے افغانستان سے سرحدی صوبوں میں روپوش تحریک طالبان کی قیادت کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ مولوی فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے اور افغان حکام کو باور کرایا گیا ہے کہ افغان علاقوں میں خفیہ پناہ گاہیں بنانے والے ان شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گرد حملے جاری رہنے کی صورت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف ''ہاٹ پر سوٹ'' کی پالیسی اپنا سکتی ہیں۔

افغانستان سے آنے والے دہشت گرد سیکیورٹی اداروں پر اکثر و بیشتر حملے کرتے رہتے ہیں اب انھوں نے پشاور میں اسکول پر حملہ کر کے سیکیورٹی اداروں کے حوصلے پست کرنے کی مذموم کوشش کی ہے لیکن ہماری حکومت اور فوج نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کے حوصلے کسی صورت پست نہیں ہوں گے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ جب کسی ملک کی سلامتی پر حملہ ہو تو حملہ آوروں اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا اس کا حق ہوتا ہے۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو امریکا نے اس کے جواز میں افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ اب پاکستان اپنی اس پالیسی میں بالکل حق بجانب ہے کہ اگر افغانستان سے دہشت گردوں کے حملے اسی طرح جاری رہتے ہیں تو وہ ان کے خلاف ہاٹ پرسوٹ کی پالیسی پر عمل کر سکتا ہے۔

بعض حلقوں نے دہشت گردی کے ہر واقعے کو بھارت کے ساتھ نتھی کرنے کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ اب ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں اور ہمارا دشمن وہاں چھپا ہوا ہے۔ افغانستان میں اس وقت جدید ہتھیاروں سے لیس امریکا اور نیٹو افواج بڑی تعداد میں موجود ہے مگر حیرت ہے کہ اس کے باوجود دہشت گرد بآسانی سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔

امریکا دہشت گردوں کے تعاقب میں آئے دن پاکستان پر تو ڈرون حملے کرتا رہتا ہے مگر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہا۔ افغان صدر نے جنرل راحیل شریف کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تو فوری کارروائی کی جائے گی۔

افغان صدر کی یقین دہانی کافی نہیں کیونکہ موجودہ صورت حال انھیں عملی کام کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان افغانستان دہشت گردوں کے اڈوں کے خاتمے کے لیے بلاتاخیر آگے بڑھیں، افغان حکومت اور نیٹو آرمی سے مل کر کارروائی کرے۔ دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزا پر عملدرآمد کی منظوری دے دی ہے' واضح رہے کہ ملک میں 2008ء سے سزائے موت پر عملدرآمد رکا ہوا ہے، اس وقت متعدد دہشت گرد سزا پانے کے باوجود جیلوں میں سزائے موت کے منتظر ہیں ۔

جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کو انتہائی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں نے کراچی جیل میں قید اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے سرنگ کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی جو ناکام بنا دی گئی۔ یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ دہشت گرد کمزور استغاثہ اور تفتیش کے باعث ضمانتیں کرا لیتے ہیں اور انھیں سزائیں نہیں ملتی۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جیلوں میں قید دہشت گردوں کو فوری طور پر ان کے انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے،کسی قسم کے تاخیری حربے ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔