سندھ ہائیکور ٹ نے کراچی میں ایٹمی بجلی گھربنانے کی اجازت دیدی

3ماہ میں ای آئی اے کی منظوری حاصل کی جائے، تمام مطلوبہ شرائط مدنظر رکھی جائیں،عدالت


Staff Reporter December 23, 2014
اس وقت تک اٹامک انرجی کمیشن تعمیراتی کام کرسکتاہے،عدالت نے درخواست نمٹادی فوٹو:فائل

FAISALABAD: چیف جسٹس سندھ ہائیکور ٹ جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کراچی کے ساحل پر 2ایٹمی بجلی گھروں کی تنصیب کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے حکم امتناع مشروط طورپر ختم کردیا اورقرار دیاہے کہ ای آئی اے کی منظوری تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن چاہے توتعمیراتی کام جاری رکھ سکتاہے۔

فاضل بینچ نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کوبھی منصوبے کے لیے 3ماہ میں نیا ماحولیاتی تجزیہ(ای آئی اے)کی منظوری حاصل کرنے کاپابند کیاہے۔ عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزارپروفیسر پرویز ہودبھائی، آسکرایوارڈ یافتہ فلمسازشرمین عبیدچنائے اوردیگر کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ماحولیاتی قوانین کے مطابق ای آئی اے کی منظوری کے لیے کھلی سماعت کی جائے اورتمام مطلوبہ شرائط کو مدنظر رکھاجائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ معاملہ ماہرین کی کمیٹی کے سامنے رکھاجائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ای آئی اے کی منظوری تک کھدائی اوردیواروں کی تعمیروغیرہ کاکام جاری رکھاجا سکتاہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے وکیل انور منصورخان نے اپنے دلائل میںکہا تھاکہ اس طرح کے منصوبے دیگرممالک میں بھی جاری ہیں اور ملک میں 2 پروجیکٹ پہلے ہی کام کررہے ہیں۔ کے ٹواور کے تھری سے 2200میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ حکومت ہنگامی بنیادوں پریہ منصوبے شروع کررہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوجائے۔

حکم امتناع کے باعث یومیہ 6کروڑ کانقصان ہورہا ہے۔ منصوبے کے لیے قومی اوربین الاقوامی سیکیورٹی مراحل کاجائزہ لیا گیا۔ سیپا نے بھی پاکستان نیشنل ریگولیٹری اتھارٹی کا جائزہ لے کرمنصوبہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔ پاورپروجیکٹس کامنصوبہ انتہائی حساس ہے اس لیے کھلی عدالت میں حقائق سے آگاہ نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیارکیا ہے کہ ایٹمی بجلی گھروں K-2اور K-3کی تعمیرسے انسانی جانوں کے لیے خطرات لاحق ہیں۔ منصوبہ ماحول دوست نہیں۔ اس حوالے سے ماحولیاتی اثرات کے تجزیے کی منظوری کے لیے قواعدکو نظرانداز کیا گیاہے۔بین الاقوامی قوانین کے تحت ایٹمی بجلی گھرشہر سے 30کلومیٹر دورلگنا چاہیے۔ ایٹمی بجلی گھرکے منصوبے پرچین بھی کام کررہا ہے جس نے اس ضمن میں کوئی کامیاب تجربہ نہیں کیا۔