چین کی 8 ہزار میگاواٹ کی 2 ٹرانسمیشن لائنز بچھانے میں تعاون کی پیشکش

مسابقتی بڈنگ کے ذریعے پراسیس میں شامل ہونے کیلیے بھی انویسٹرز تیار، وزیراعظم کی وزارت پانی و بجلی کو تجاویز کی۔۔۔


Irshad Ansari December 25, 2014
حکومت 10400 میگاواٹ منصوبوں کی 2017 تک تکمیل کیلیے کوشاں، آئندہ موسم گرما سے قبل اضافی بجلی سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے، ذرائع فوٹو : فائل

چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے شمالی اور جنوبی کوریڈور میں 8 ہزار میگاواٹ صلاحیت کی حامل دو ٹرانسمیشن لائنز بچھانے میں تعاون کرنے کی پیشکش کردی ہے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق توانائی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں توانائی بحران پر قابو پانے کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک میں توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لیے جلد ازجلد ملک کے شمالی و جنوبی کوریڈورز میں دو ٹرانسمیشن لائن بچھانا بہت بڑا چیلنج ہے لیکن اسے پورا کرنا ہوگا اور جون 2017 سے پہلے پہلے ملک کے شمالی و جنوبی کو ریڈور میں یہ دو ٹرانسمیشن لائنز بچھانا پڑیں گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چائنیز پاکستان کے شمالی و جنوبی کوریڈور میں یہ دو ٹرانسمیشن لائنز بچھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اس کے لیے وہ مسابقتی بڈنگ کے ذریعے مذکورہ ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے پراسیس میں شامل ہونے کو بھی تیار ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے وزارت پانی و بجلی کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ مذکورہ شمالی اور جنوبی کوریڈور میں آٹھ ہزار میگاواٹ صلاحیت کی حامل دو ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے منصوبوں کے حوالے سے جلد ازجلد تجاویز کی درخواستیں (آر ایف پی) کیلیے اشتہار دیے جائیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حکومت آئندہ موسم گرما سے قبل قلیل المدت بنیادوں پر اضافی بجلی سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے جبکہ چین کے ساتھ طے پانے والے تینتالیس ارب روپے کے معاہدوں کے تحت پہلے مرحلے میں دس ہزار چار سو میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی 2017 کیلیے تمام تر اقدامات اٹھانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے تاکہ مذکورہ مدت تک سسٹم میں اضافی شامل کی جاسکے۔