فلسطین میں اسرائیلی توسیع پسندی جاری

اسرائیل فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے میں جس قدر توسیع کرے گا فلسطینیوں پر دباؤ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔


Editorial December 25, 2014
دلچسپ امر یہ ہے کہ نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر پر امریکا کی طرف سے دکھاوے کا انتباہ بھی کیا جاتا ہے۔ مگر نئی تعمیرات کو روکنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی جاتی، فوٹو : فائل

اسرائیلی حکام نے گزشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے مشرق میں مزید 380 مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دیدی ہے اور اس طرح یہ صہیونی ریاست تسلسل کے ساتھ فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرتی جا رہی ہے حالانکہ یورپی ممالک نے یکے بعد دیگرے فلسطین کو بطور آزاد و خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے بلکہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر چکی ہے جسے فلسطین نے سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم دوسری طرف امریکا نے دھمکی دیدی ہے کہ اگر فلسطین کو تسلیم کرنے کی قرار داد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تو امریکا اس کو ویٹو کر دے گا۔ گویا ثابت ہوا کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکا ہی ہے جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر والے علاقے میں اسرائیل کا دبدبہ ہمیشہ کے لیے قائم رہے اور اس میں مظلوم و مقہور فلسطینیوں کے جس قدر بھی جانی اور مالی نقصانات ہوں اور ان کی جس قدر بھی تباہی اور بربادی ہو اس کا امریکا کو قطعاً کوئی احساس نہیں ہے حالانکہ امریکا کو یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی جو شدید لہر آئی ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ فلسطینیوں پر ناروا ظلم و ستم ہی ہے۔

اسرائیل فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے میں جس قدر توسیع کرے گا فلسطینیوں پر دباؤ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی جنگی جہازوں کی بمباری بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے جب کہ اسرائیلی بل ڈوزر فلسطینیوں کے گھروں کو آئے دن ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرتے رہتے ہیں جس سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں پر نہ صرف غم واندوہ کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں بلکہ ان کے غیظ و غضب میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن جب ان کی طرف سے ردعمل ہوتا ہے تو انھیں دہشتگرد قرار دیدیا جاتا ہے حالانکہ ان کا ردعمل عین فطری ہے۔ اسرائیل کے میونسپل کمیشن نے القدس سے ملحقہ دو علاقوں رامور اور حارحوما میں علی الترتیب 307 اور 73 نئے گھروں کی تعمیر کے اجازت نامے جاری کر دیے ہیں۔

اسرائیلی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کا تازہ اقدام انتخابات میں فتح حاصل کرنے کی نیت سے کیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر پر امریکا کی طرف سے دکھاوے کا انتباہ بھی کیا جاتا ہے۔ مگر نئی تعمیرات کو روکنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی جاتی۔ فلسطین کے ساتھ ہی جنوبی ایشیاء میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھی سات دہائیوں سے وجہ نزاع بنا ہوا ہے لیکن اس طرف بھی بڑی عالمی طاقتوں کی کوئی توجہ نہیں ہے حالانکہ عالمی دہشت گردی کی بنیادیں اسی قسم کی بے انصافیاں پیدا کرتی ہیں۔

اب اگر یورپی ممالک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی بات چلی ہے تو امریکا کو چاہیے کہ وہ اس میں رخنہ اندازی سے گریز کرے نیز بھارت پر بھی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دے تا کہ وہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرایا جا سکے اور دو ایٹمی طاقتوں میں دشمنی کی بنیاد ختم ہو سکے۔