کراچی میں گردوغبار اڑنے سے نزلہ زکام اور الرجی سمیت دیگر امراض پھوٹ پڑے

دمے، سینے، گلے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا سیکڑوں مریض علاج کے لیے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں پہنچ گئے


Staff Reporter January 02, 2015
شہر کی ایک سڑک پر تیز ہوا کے باعث گرد اڑ رہی ہے، موٹر سائیکل سوار منہ پر ہاتھ رکھ کر گزررہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

شہر میں گردوغبار اڑنے اور تیز ہوائیں چلنے کے باعث شہریوں کی بڑی تعدادمختلف امراض کا شکار ہوکر علاج کیلیے سرکاری ونجی اسپتالوں میں پہنچ گئی۔

ماہرین طب نے اس موسم میں عوام کو سوپ ،یخنی ،کافی اوردیگرگرم چیزیں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کامشورہ دیا ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی میں گردوغبار اڑنے اورتیز ہوائیں چلنے سے مختلف امراض پھوٹ پڑے ہیں،جمعرات کو اچانک موسم کی تبدیلی کے باعث صبح سویرے سے ہی جناح اسپتال، سول اسپتال سمیت دیگر سرکاری ونجی اسپتالوں میں دمے، سینے،گلے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا سیکٹروں مریض علاج کے لیے پہنچ گئے۔

ماہرین طب کاکہناہے کہ تیزہوائیں چلنے کے باعث گردوغبارمنہ اور ناک کے ذریعے گلے، سانس کی نالی، سینے اور پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتی ہے جس سے نارمل افراد بھی شدیدمتاثرہورہے ہیں، ناک اور منہ کے ذریعے گردانسانی جسم میں داخل ہوکر مختلف اقسام کی الرجی کا بھی باعث بن رہی ہے، ڈاکٹر آفتاب حسین نے بتایاکہ براہ راست منہ کے ذریعے سانس لینے والے افراد گرد آلود موسم میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ گرد براہ راست منہ کے ذریعے سانس کی نالیوں کے ذریعے گلے، سینے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے جس سے انفیکشن ہوجاتا ہے۔

گرد اڑنے سے مٹی ناک میں داخل ہونے سے نزلہ،کھانسی، زکام ہوتا ہے جبکہ سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کو مختلف انفیکشن کا بھی سامنا ہے، دمہ کے مرض میں مبتلا مریضوں کواس موسم میں شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اورایسے مریضوں کو دمے کا حملہ ہوسکتا ہے، گرد آلود ہوائیں چلنے سے گردناک اور منہ کے ذریعے مختلف اقسام کے انفیکیشن کاباعث بھی بنتی ہے کیونکہ گرد میں مختلف اقسام کے بیکٹریا شامل ہوتے ہیں جو سانس لینے سے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں جس سے رائیناٹیس کامرض لاحق ہوجاتاہے ، کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد اس مرض کا فوری شکار ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسم میں چھوٹے بچوں کو گھروں میں رکھیں، باہر ہرگز نہ نکلنے دیں کیونکہ بچوں کی قوت مدافعت انتہائی کم ہوتی اور ایسے بچے فوری کسی نہ کسی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں جن افراد کو دمے کا مرض ہے ان پراس موسم میں دوبارہ حملہ ہوسکتا ہے، ایسے افراد کو اس موسم میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ گردکے اندر بیکٹر بھی موجود ہوتے ہیں جو گرد آلودہ ہواؤں کے ساتھ انسانی جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ گرد آلودہ موسم میںبچوں سمیت بڑی عمرکے افرادوخواتین نیم گرم پانی سے مختلف اوقات میں غرارے کریں وہ افراد جن کی رات میں ناک بند ہوجاتی ہے گرم پانی سے بھاپ لیں، بخاراورشدید نزلہ، زکام وکھانسی کا شکار مریض معالجین سے رجوع کریں اور اس موسم میں گھرکے گرم مشروبات چائے، کافی، یخنی اور سوپ کا استعمال زیادہ کریں۔