پیپلزپارٹی نے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی اپوزیشن جماعتیں

عوام کے ساتھ مل کرجدوجہد جاری رکھیں گے، نوابشاہ پولیس کی کارروائی کا نوٹس لیا جائے


Staff Reporter October 03, 2012
شرجیل میمن کومناظرے کاچیلنج،امتیاز شیخ، مسرور جتوئی، جام مدد اوردیگرکی مشترکہ پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ جبکہ سندھ کے حقوق کی سب سے بڑی دعویدارجماعت پیپلزپارٹی کے سندھ اسمبلی کے اراکین نے سندھ کی تقسیم کے فارمولے بلدیاتی بل کی منظوری دے دی ہے اور دہرے بلدیاتی نظام کو نافذ کرکے پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے۔

سندھ کے عوام کے ساتھ مل کر سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ بل کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے ، یہ بات فنکشنل مسلم لیگ سندھ کے جنرل سیکریٹری امتیازاحمد شیخ ، نیشنل پیپلزپارٹی کے رہنما مسرورجتوئی، ق لیگ کے شہریارمہر، جام مددعلی،نصرت سحر عباسی، ماروی راشدی اور دیگر نے امتیاز شیخ کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ امتیازشیخ نے کہا کہ پاکستان کوپہلی مرتبہ تقسیم پیپلزپارٹی نے اپنے وجود کی پیدائش کے چند سال بعد ہی کردیا تھا اس وقت بھٹو نے یہ کہہ کرپاکستان کوتقسیم کیا تھا'' ادھر ہم ادھر تم'' کل پھرتاریخ دہرائی گئی، اسی پیپلز پارٹی نے سندھ کوبلدیاتی نظام کی آڑ میں تقسیم کردیا۔ پاکستان توڑنے اور سندھ تقسیم کرنے کے دونوں کام پیپلز پارٹی نے کیے۔

سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، شاعروں اور اہل قلم سے اپیل ہے کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف اٹھائے گئے قدموں کواپنے قلم کی نوک سے روکیں۔ پیپلزپارٹی نے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری دے کر ون یونٹ سے بھی بدترین کام کیا ہے۔امتیازشیخ نے بلدیاتی نظام کے خلاف سڑکوں پرآنے پر عوام کوخراج تحسین پیش کیا۔نواب شاہ میں پولیس فائرنگ میں قوم پرست کارکنوں کے قتل کی مذمت کی اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیاکہ وہ پولیس کی اس وحشیانہ کارروائی کا ازخود نوٹس لے۔

امتیازشیخ نے وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن سمیت پیپلزپارٹی کوٹی وی پر مناظرے کاچیلنج دیا اورکہا کہ ہم بتائیں گے کہ یہ کس طرح دہرانظام ہے۔ شہریار مہر، جام مدد علی اور مسرور جتوئی نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن اراکین کونشستیں الاٹ نہ کرکے ہمارے حقوق غضب کیے ہیں دوسری جانب بولنے کا موقع نہ دے کراسمبلی قوانین کو بھی بلڈوزکیا ہے۔ قبل ازیں امتیازاحمد شیخ نے کوئٹہ میں صحافیوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہید صحافیوں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔