گاڑیوں پر ٹیکسوں میں بغیر مشاورت ردوبدل پر صوبوں کا مشترکہ مفادات کونسل جانے کا فیصلہ

نئے ریٹ اورطریقہ کار کے مطابق وصولیوں کے لیے انتظامات بھی نہیں کیے گئے، صوبوں نے ریونیو کم ہونے اور وصولی۔۔۔


Irshad Ansari January 06, 2015
انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم پر وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ سی سی آئی میں اٹھانے کی منظوری دے دی،صوبوں نے بھاری ٹیکسوں سے اجتناب کی تجویز بھی دی، دستاویز۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کی طرف سے رواں مالی سال کے بجٹ میں گاڑیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم کے بارے میں صوبوں سے مشاورت نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، صوبوں نے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق صوبوں کی طرف سے وفاق سے کہا گیا ہے کہ صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس اور صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز کی طرف سے ایف بی آر کے 2 قسم کے ٹیکس اکھٹے کیے جارہے ہیں مگر رواں مالی سال کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکسوں کے حوالے سے صوبوں سے مشاورت کیے بغیر ترامیم کردی گئی ہیں جبکہ اس کے لیے کسی قسم کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور ان انتظامات کے نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کو نئے ریٹ اور نئے میکنزم و پروسیجر کے مطابق گاڑیوں پر ٹیکس وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ صوبوں کے اپنے ریونیو میں بھی کمی کا باعث بن رہے ہیں، صوبوں کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ بھاری ٹیکسوں سے اجتناب کیا جائے اس سے صوبوں کا ریونیو متاثر ہوتا ہے۔

دستاویز کے مطابق صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹس اور صوبائی موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز کی طرف سے گاڑیوں پر پرانی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم پر عمل درآمد نہ کرنے کا انکشاف ہوا تھا جس سے ایف بی آر کو بڑے پیمانے پر ریونیو کا نقصان ہورہا ہے جبکہ ایف بی آر نے بجٹ پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو لیٹر لکھے تھے جس کے جواب میں صوبوں نے موقف اپنایا ہے کہ سافٹ ویئر میں ضرورت کے مطابق اپ گریڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے اور ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث نئے طریقہ کار کے مطابق ٹیکس وصولی مشکل ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ سندھ کے وزیراعلی نے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں لے جانے کی منظوری دے دی ہے اوردیگر صوبوں کے بھی اس حوالے سے تحفظات ہے کیونکہ اس معاملے پر وفاق کی جانب سے صوبوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ سافٹ ویئر کی اپ گریڈیشن نہ ہونے اور ڈیٹا کے ساتھ کمپیوٹر و آئی ٹی سسٹم کی ہر جگہ عدم دستیابی کے باعث مذکورہ میکنزم پر عمل درآمد میں مشکلات ہیںاور اگر صوبوں سے مشاورت کے ساتھ اس نظام کو تمام تقاضے پورے کرکے متعارف کرایا جاتا تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔