انسداد پولیو مہم آج سے ضلع غربی ملیر اور شرقی میں شروع ہوگی

رواں سال فاٹا میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا، نئی حکمت عملی کے تحت مہم اب مرحلہ وار شروع کی جارہی ہے


Staff Reporter January 19, 2015
انسداد پولیو مہم کو2 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے،24 جنوری سے انسداد پولیو انجکشن مہم شروع کی جائے گی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ضلع ملیر،غربی اور شرقی میں آج سے 3 روزہ انسداد پولیومہم شروع کی جائے گی، 23 جنوری سے دوسرے مرحلے میں دیگر اضلاع میں سہ روزہ پولیو مہم کا آغاز کیا جائے گاجس میں بچوں کو پولیو کی حفاظتی خوراک پلائی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں ضلع وسطی اور جنوبی میں مہم شروع کی جائیگی،آج سے شروع کی جانے والی مہم کے دوران پولیو رضاکاروںکو مکمل تحفظ کی فراہمی کیلیے سیکیورٹی کے تمام ترانتظامات بھی مکمل کرلیے ہیں، قائم مقام ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈا کٹر امداد اللہ صدیقی کے مطابق آج سے تینوں اضلاع میں 5 سال کی عمر تک کے بچوں کو پولیوکی حفاظتی خوراک پلائی جائے گی،11حساس یونین کونسلوں میں 24 جنوری سے پولیوانجکشن مہم شروع کی جائیگی، آج سے شروع کی جانے والی تینوں اضلاع میں 12لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کی حفاظتی خوراک پلائی جائیگی۔

اس حوالے سے پولیو رضا کاروں کی ٹیمیں بھی تشکیل دیدی گئیں ہیں،ضلع شرقی میں 23 یونین کونسلوں کے 2 لاکھ 31 ہزار 963 بچوں کو پولیوکی حفاظتی خوراک پلائی جائے گی، ضلع ملیرکی 16 یونین کونسلوں کے 2 لاکھ 24 ہزار 822 بچوں کو، ضلع غربی کی 30 یونین کونسلوں میں 4 لاکھ 19 ہزار 505 بچوں کو پولیو کی حفاظتی خوراک پلائی جائیگی۔

انھوں نے بتایا کہ انسداد پولیو مہم شروع کیے جانے کی اطلاع متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو بھی دیدی گئی ہے، انسداد پولیو مہم نئی حکمت عملی کے تحت اب مرحلہ وار شروع کی جارہی ہے، اس سے قبل کراچی کے تمام اضلاع میں مہم ایک ساتھ شروع کی جاتی تھی، سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے اب مہم مرحلہ وار شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے، ملک میں رواں سال فاٹا میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، سال 2014 میں مجموعی 303 بچے پولیو وائرس کا شکار ہوئے تھے جس پرعالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا۔

قومی ادارہ صحت اسلام آباد لیبارٹری نے رواں سال کے پہلے پولیو کیس کی تصدیق کردی، معلوم ہواہے کہ اس و قت پاکستان میں رپورٹ ہونے والے 89 فیصد پولیو کیسوں کا تعلق خیبر پختونخوا اور فاٹا سے ہے کیونکہ گزشتہ سال سب سے زیادہ پولیو کے کیس شمالی علاقہ جات میں رپورٹ ہوئے، وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے ایک ذمے دار افسر نے بتایا کہ اگرچہ نئے سال کا پہلا کیس سامنے آچکا ہے، گزشتہ سال کے کچھ ٹیسٹوں کے نتائج آنا باقی ہیں جس کی وجہ سے پولیو کیسوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، انھوں نے بتایا کہ 3 جنوری کوخیبر پختونخواکے علاقے ٹانک میں ایک بچے کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی تھی۔

عالمی اداروں کے ماہرین نے پاکستان میں پولیوکے بڑھتے کیسز کو خطرناک صورتحال قراردیا ہے، ملک میں سیاسی صورتحال، امن وامان کی غیر یقینی صورتحال، پولیو رضاکاروں پر دہشت گردوںکے حملوں اورحکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پولیو وائرس پر قابو پایا نہیں جاسکا، عالمی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولیو وائرس خوفناک حد تک پہنچ رہا ہے، اس صورتحال پرعالمی اداروں نے پہلے ہی پاکستانیوں کے بیرون ممالک پر پولیو سرٹیفکیٹ کو لازمی قراردے دیا گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پولیو وائرس کے حوالے سے صورتحال یہی رہی تو پاکستانیوں پر مزید سفری پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں، ملک میں وائرس کی مسلسل تباہ کاریوںکے نتیجے میں عالمی ماہرین نے پولیو ویکسین کے ساتھ پولیو انجکشن بھی شروع کردیا۔