سیکڑوں اسکولوں میں پانیبجلی اور چار دیواری نہیں سیکریٹری تعلیم سندھ کا اعتراف

سندھ میں60 فیصد اسکول میں پینے کے صاف پانی،40 فیصد بجلی اور 35 فیصد چاردیواری ہی نہیں، فضل اللہ پیچوہو کا اعتراف


Staff Reporter January 20, 2015
اساتذہ کا حاضری نظام بہتر بنانے کے لیے ٹیکسٹ موبائل سروس شروع کی جائے گی فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ میں 40 ہزار گھوسٹ اساتذہ اور 5 ہزار 229 گھوسٹ اسکول ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ کی اکثریت تربیت یافتہ نہیں۔

صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے''مشعل پاکستان'' کے تحت منعقدہ گول میز کانفرنس میں کہا کہ سندھ میں60 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی،40 فیصد اسکولوں میں بجلی اور 35 فیصد اسکولوں میں چاردیواری موجود نہیں ہے، سندھ میں بیشتر قائم اسکول اوطاق کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں،اندرون سندھ کے بعض دیہات میں ایک ہزار کی آبادی میں 62 اسکول کھلے ہوئے ہیںجو کہ آبادی کے تناسب سے زیادہ ہیں، بیشتر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اسکول میں حاضر نہیں ہوتے ہیں اور اپنی جگہ کسی دوسرے فرد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے ہیں، اپنی پوری تنخواہ لیتے ہیں، ساتھ ہی نجی ملازمت میں بھی مصروف ہیں، تدریسی عملے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ انتظامیہ میں تبادلہ کرالے جبکہ تدریس اور انتظامی امور دونوں الگ الگ شعبے ہیں ، تدریس ایک فن ہے جس کے لیے ماہر اساتذہ کا ہونا ضروری ہے۔

ذرائع ابلاغ کو تعلیمی حوالے سے حکومت کی کارکردگی کو جانچنا چاہیے ، اساتذہ کو قابلیت کی بنیاد پر شعبہ تدریس میں تعینات کیا جانا چاہیے،انھوں نے مزید بتایا کہ پبلک اینڈ پرائیویٹ پارٹنرشپ کی پالیسی کے تحت غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر اساتذہ کی موٗثر تدریس کے لیے انھیں تربیت دی جائے گی،اساتذہ کے تمام ریکارڈ کوڈیٹا سینٹر میں کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا تاکہ اُن کی حاضر ی ر یکارڈ کی جانچ پڑتال بآسانی کی جاسکے،اِس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں ٹیکسٹ موبائل سروس بھی شروع کی جائے گی تاکہ اساتذہ کی حاضری سے متعلق والدین محکمہ تعلیم کو پیغام رسانی کے ذریعے برقت مطلع کرسکیں تاکہ غیر حاضر ٹیچر کے خلاف برقت کارروائی کرنا آسان ہو ۔ ڈائریکٹر مشعل پاکستان پیوریش چوہدری کا کہنا تھاکہ حکومت تعلیمی شعبہ کو اہمیت نہیں دے رہی ہے ، ذرائع ابلاغ کو تعلیمی مسائل کو مثبت انداز سے اجاگر کرنا چاہیے۔