18ویں ترمیم کی خلاف ورزی سندھ حکومت میں مشیروں کی فوج

5 مشیر رکھنے کی گنجائش مگر17 معاون خصوصی، 8 کوآرڈینیٹر اور4 ایڈوائزر بھرتی کرلیے


Staff Reporter January 21, 2015
معاون خصوصی سے وزیرکے اختیارات واپس لینے کی سمری وزیراعلیٰ کوارسال کردی گئی فوٹو: فائل

سندھ حکومت نے18ویں آئینی ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے17معاون خصوصی8 کو آرڈینیٹر جب کہ سندھ حکومت کے4 ایڈوائزر بھرتی کر لیے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور کو آرڈینیٹرز کو ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ ، الاؤنسز، قیمتی گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں جب کہ شرمیلا فاروقی، ضیا النجار، علی حسن ہنگورو سمیت دیگرکو قانون کی شدید خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیر کے برابر کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ممکنہ فیصلے کے باعث مذکورہ معاون خصوصی سے وزیر کے اختیارات واپس لینے کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردی گئی ہے جب کہ 18 ویں آئینی ترمیم میں صرف 18 وزیر اور 5 مشیر رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس کے برعکس وزیراعلیٰ سندھ نے معاون خصوصی، کوآرڈینیٹرز اور مشیران کی فوج بھرتی کرلی ہے۔ سندھ حکومت کے4 مشیران میں فضل الرحمن ، غلام عباس بلوچ،غلام حیدرکھوکھر اوراحسن رضا جعفری شامل ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے لیے بھی اصغرجونیجوکومشیربھرتی کررکھا ہے ۔