متعلقہ اداروں کو مردم شماری کیلیے ضروری اقدامات کی ہدایت

حکومت کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت مردم شماری کے التوا کی کوشش کررہی ہے،عدالت


Staff Reporter January 23, 2015
حکومت بلاتاخیر تازہ مردم شماری کرائے، مردم شماری کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جائیں، عدالت فوٹو: فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ اداروں کومردم شماری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کردی۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے آبزرویشن دی ہے کہ ملک میں مردم شماری کا عمل پہلے ہی ضروری آئینی مدت سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوچکا، اس ضمن میں حکومت کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت مردم شماری کے التوا کی کوشش کررہی ہے،بینچ نے اپنی آبزرویشن میں مزید کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کابہانہ بناکر تازہ مردم شماری کو ٹالاجارہاہے، اگر بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال اورسیکیورٹی کے مسائل ہیں تو انکے حل کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیں، بادی النظر میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے آپریشن سے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے،مقررہ مدت میں آدم شماری ناگزیر ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ حکومت بلاتاخیر تازہ مردم شماری کرائے، مردم شماری کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جائیں ادارہ شماریات مردم شماری کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کردے جو پہلے ہی مقررہ آئینی مدت سے تاخیر کا شکار ہوچکی ہے ، متعلقہ ادارے بالخصوص وزیراعظم سیکرٹریٹ ،کیبنٹ ڈویژن، ادارہ شماریات اور دیگرمتعلقہ ادارے اس حوالے سے مل جل کر کم سے کم مدت میں مردم شماری کیلیے حکمت عملی مرتب کریں تاکہ مردم شماری کے لیے کہیں سے آغازتو ہوسکے۔

فاضل بینچ نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ مردم شماری کے لیے رابطے کا کردار ادا کرے ،چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماصدیق راٹھور کی درخواست کی سماعت کی،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون منظور کیا گیا ہے اور نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔

درخواست گزار نے موقف اختیارکیا کہ صوبے میں 1998کے بعد مردم شماری نہیں ہوئی جبکہ اس عرصے کے دوران آبادی میں قابل ذکراضافہ ہوا ہے، ضروری ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کی جائے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئی مردم شماری کے تحت نئی ووٹر لسٹوں کی تیاری بھی ضروری ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مدعا علیہان کو آئندہ انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کرانے کا حکم دیا جائے، جمعرات کو سماعت کے موقع پر ادارہ شماریات کی جانب سے بتایا گیا کہ اسے مطلوبہ فنڈز اور سہولت فراہم کردی جائے تو مردم شماری ہوسکتی ہے، اس عمل کیلیے 10ماہ کا وقت درکار ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ ایک طرف تو کہا جارہا ہے کہ متعلقہ ادارہ مردم شماری کیلیے تیار ہے مگر اس کام کیلیے 10ماہ کی مہلت مانگی جارہی ہے، عدالت نے آبزرویشن دی کہ فنڈزکی کمی کا بھی شکوہ کیا جارہا ہے جس سے حکومت کی غیرسنجیدگی ظاہر ہوتی ہے،اس سے بڑھ کر یہ کہ بلوچستان میں امن و امان کا بہانہ بنا کر مردم شماری کو ٹالاجارہا ہے،عدالت نے حکم دیا کہ ملک میں تازہ مردم شماری کیلیے فوری نوعیت کے اقدامات کرے اور 3مارچ تک جامع رپورٹ پیش کرے۔